Book Name:Dil Ki Sakhti Ka Waba
سے دِل سخت ہوتا ہے، حدیث شریف میں ہے:اِنَّ کَثْرَۃَ الضِّحْکِ تُمِیْتُ الْقَلْبَ بےشک زیادہ ہنسنا دِل کو مردہ(Dead) کر دیتا ہے([1]) *ایسے ہی زیادہ کھانا، بالخصوص حَرام حلال کی پروا کئے بغیر کھاتے چلے جانا، دِل کو مُردہ کر دیتا ہے *اور دِل کو سب سے زیادہ نقصان دینے والی چیز گُنَاہ ہے۔ گُنَاہ چھوٹا ہو یا بڑا دِل پر بُرا اَثَر(Bad Effect) ڈالتا ہے، اللہ پاک قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
"¸ª mS"*¦
.S8 (پارہ:30،مُطَفِّفِین:14) تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: بلکہ ان کے کمائے ہوئے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے
دِل کا اُجْڑا چمن ہو پھر آباد کوئی ایسی ہَوا چَلا یارَبّ!
نفس و شیطان ہو گئے غالِب اُن کے چُنگل سے تُو چُھڑا یارَبّ!
نِیْم جاں کر دیا گُنَاہوں نے مَرضِ عِصْیاں سے دے شِفا یارَبّ!
واسطہ میرے پیر و مرشِد کا مجھ کو تُو متقی بنا یارَبّ!([2])
دِل کی سختی مٹانے، دِل نرم کرنے کے 3 نسخے پیش کرتا ہوں:
(1):ذِکْرُ اللہ
ذِکْرُ اللہ کی کثرت کرنے سے دِل کا زنگ دُور ہوتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے، اللہ پاک کے حبیب، دِلوں کے طبیب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: بےشک جیسے لوہے(Iron)