Book Name:Dil Ki Sakhti Ka Waba
دِی جاتی ہیں، اُن میں سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ بندے کا دِل سخت کر دیا جاتا ہے۔([1])
قَلب سختی میں حَد سے بڑھا ہے بندہ طالِب تِرے خَوف کا ہے
اِلتجائے غمِ مصطَفےٰ ہے یاخدا! تجھ سے میری دُعا ہے
حُبِّ دُنیا میں دِل پھنس گیا ہے نَفسِ بَدکار حاوِی ہوا ہے
ہائے شیطاں بھی پیچھے پڑا ہے یاخدا! تجھ سے میری دُعا ہے([2])
ایک حدیث شریف میں ہے: 4 چیزیں بدبختی سے ہیں :(1):آنکھوں کا جُمُوْد (یعنی آنسو نہ نکلنا، رونا نہ آنا) (2):دِل کی سختی(3):لمبی اُمِّید(4):دُنیا کا لالچ۔([3])
اللہ پاک ہمیں اس بدبختی سے بچائے، ہمیں اپنے دِل کی حالت پر تَوَجُّہ دینی چاہئے، اگر دِل سخت ہو گیا ہے تو اِس کے عِلاج کی کوشش کرنی چاہئے۔
اے عاشقانِ رسول! دِل سخت ہونے اور اس پر مَیل چڑھنے کے بہت اسباب(Reasons) ہیں: مثلاً *فُضُول کلامی (یعنی بِلا ضرورت بولتے چلے جانے) سے دِل سخت ہوتا ہے۔پیارے نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ذِکْرُ اللہ کے عِلاوہ زیادہ کلام نہ کرو! بےشک زیادہ باتیں کرنادِل کو سخت کر دیتا ہے۔([4]) *یُونہی زیادہ ہنسنے