Book Name:Dil Ki Sakhti Ka Waba
حضرت سعید بن جُبَیر، ربیع بن ابو راشِد اور بہت سارے بزرگانِ دِین رحمۃُ اللہِ علیہم فرماتے ہیں: اگر ایک لمحے کے لئے بھی مَوت کی یاد دِل سے دُور ہو جائے تو دِل بگڑ جاتے ہیں۔([1])
اَللہُ اَکْبَر! مَوت کی یاد لمحہ بھر کے لئے دِل سے ہٹ جائے تو دِل بگڑ جاتا ہے، ہمیں تو موت کی یاد آتی ہی نہیں، آتی بھی ہے تو کبھی کبھار وہ بھی بس لمحہ بھر کے لئے۔ آہ! ہمارے دِلوں کا حال کیا ہو گا...!!
عارضی آفتِ دُنیا سے تو ڈرتا ہے دِل
ہائے بے خوف عذابوں سے ہوا جاتا ہے([2])
(3):صحبتِ صالحین
پیارے اسلامی بھائیو! دِل کا زنگ دُور کرنے کا تیسرا اور عملی طور پر سب سے مُؤثِّر (Effective)طریقہ نیک صحبت ہے *اللہ پاک کے نیک بندوں کے پاس اُٹھنے بیٹھنے *اِن کی باتیں سُننے *اُن کی طرف محبّت سے دیکھنے اور *اُن کی سیرت اپنانے کی بَرَکت سے اتنی تیزی سے دِل کا زَنگ دُور ہوتا ہے کہ جس کا جواب نہیں۔
حضرت جعفر بن سُلَیْمان رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں جب کبھی اپنے دِل میں سختی پاتا تو صبح سویرے حضرت محمد بن واسِع رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خدمت میں حاضِر ہو جاتا، اس کی