Dil Ki Sakhti Ka Waba

Book Name:Dil Ki Sakhti Ka Waba

  اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:

وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیْرَؕ- (پارہ:17، الانبیاء: 79)

تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اور داؤد کے ساتھ پہاڑوں اور پرندوں کو تابع بنا دیا کہ وہ پہاڑ اور پرندے تسبیح کرتے ۔

پتا چلا؛ پہاڑ بھی تسبیح کرتے ہیں، ان کی تسبیح کیا ہے؟ کیسے کرتے ہیں؟ کس انداز سے کرتے ہیں؟ یہ اللہ پاک ہی بہتر جانتا ہے۔ *اسی طرح ابوجہل کے ہاتھ میں کنکروں نے کلمہ پڑھا، جو ابوجہل نے بھی سُنا *مکّہ پاک کے بعض خوش نصیب پتھر رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمت میں سلام بھی پیش کیا کرتے تھے *اُحُد پہاڑ سے متعلق ارشاد ہوا؛ اُحُدٌ ‌جَبَلٌ ‌يُّحِبُّنَا وَنُحِبُّهٗ یعنی اُحُد پہاڑ ہم سے محبّت کرتا ہے، ہم اس سے محبّت فرماتے ہیں۔([1])  

اُحُد پہاڑ کے فضائل

سُبْحٰنَ اللہ! کیا شان ہے اُحُد پہاڑ کی...!! ماشآء اللہ! یہ عاشقِ رسول پہاڑ ہے اور اس مُقَدَّس پہاڑ کی قسمت پر قربان جائیے! ہمیں برسوں ہوئے غلامئ رسول کے نعرے لگاتے ہوئے، قسمت والا تو وہ ہے جسے آقا صَلّی اللہُ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم نے قُبُول کیا۔

اللہ کا مَحْبُوب بنے جو تمہیں چاہے          اُس کا تو بیاں ہی نہیں کچھ تم جسے چاہو([2])

پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: فَاِذَا جِئْتُمُوْہُ جب تم اُحُد پہاڑ کے پاس آؤ فَکُلُوْا مِنْ شَجَرِہٖ اس پر اُگنے والے درخت کے پتے (بطور تبرک ) کھایا


 

 



[1]...بخاری، کتاب الزکاۃ، با ب خرص التمر، صفحہ:414، حدیث:1482۔

[2]...ذوقِ نعت، صفحہ:206۔