Book Name:Dil Ki Sakhti Ka Waba
وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُؕ-وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُ جُ مِنْهُ الْمَآءُؕ-وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِؕ-وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ(۷۴) (پارہ:1، البقرۃ:74)
صَدَقَ اللہُ الْعَظِیْم وَ صَدَقَ رَسُوْلُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیْم صلّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: پھر اس کے بعد تمہارے دِل سخت ہو گئے تو وہ پتھروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت ہیں اور پتھروں میں تو کچھ وہ ہیں جن سے ندیاں بہہ نکلتی ہیں اور کچھ وہ ہیں کہ جب پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکلتا ہے اور کچھ وہ ہیں جو اللہ کے ڈر سے گِر پڑتے ہیں اور اللہ تمہارے اعمال سے ہر گز بے خبر نہیں۔
پیارے اسلامی بھائیو! ہم نے پارہ:1، سورۂ بقرہ کی آیت: 74 سُننے کی سعادت حاصِل کی، سُورۂ بقرہ کی آیت: 49 سے بنی اسرائیل کی بُرائیوں کا جو بیان شروع ہوا تھا، اُس کا یہاں اختتام ہو رہا ہے۔ آئیے! آیتِ کریمہ سُنتے ، سمجھتے اور اُس سے سبق سیکھتے ہیں:
اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ (پارہ:1، البقرۃ:74)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: پھر اس کے بعد تمہارے دِل سخت ہو گئے۔
یعنی بنی اسرائیل پراتنے انعامات ہوئے، اِنہیں بار بار نعمتیں عطا کی جاتی رہیں مگر یہ شکر کرنے کی بجائے مسلسل نافرمانیاں کرتے رہے([1]) *انہیں فرعون سے نجات دی گئی،