Dil Ki Sakhti Ka Waba

Book Name:Dil Ki Sakhti Ka Waba

ہے کہ جیسے تَھن سے نکلا ہوا دُودھ واپس تَھن میں جانا ممکن نہیں، ایسے ہی خوفِ خُدا سے رونے والے شخص کا دوزخ میں جانا نَاممکن ہے۔([1])

لائِقِ نار ہیں مِرے اعمال                                                                                      التجا       یاخُدا       کرم        کی       ہے([2])

اللہ پاک ہمیں اپنا خوف نصیب فرمائے۔ آمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم

دِل کی سختی کا وبال

اللہ پاک نے فرمایا:

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةًؕ- (پارہ:1، البقرۃ:74)

تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: پھر اس کے بعد تمہارے دِل سخت ہو گئے تو وہ پتھروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت ہیں۔

یہ بنی اسرائیل کا عیب بیان ہوا کہ ان کے دِل پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہو گئے، اسی لئے اُن پر کوئی نصیحت اَثَر نہیں کرتی۔ ہمیں حکم ہے کہ اس بدنصیبی سے بچیں، اپنے دِل کی خُوب حفاظت کریں اور اسے ہر گز مُردَہ نہ ہونے دیں۔

مُرْدَہ دِل والوں جیسے مَت ہو جاؤ...!!

اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:

وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْؕ- (پارہ:27،الحدید:16)

 تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان:اور مسلمان ان جیسے نہ ہوں جنہیں پہلے کتاب دی گئی پھر ان پر مُدَّت دراز ہوگئی تو ان کے دِل سخت ہو گئے


 

 



[1]...مرآۃالمناجیح، جلد:5، صفحہ:436 بتغیر قلیل۔

[2]...وسائلِ بخشش، صفحہ:141۔