Dil Ki Sakhti Ka Waba

Book Name:Dil Ki Sakhti Ka Waba

کر دیا۔ اللہ پاک کے نبی عَلَیْہِ السَّلَام نے پتھر کو یہ خوشخبری سُنائی اور آگے تشریف لے گئے، جب واپس آئے تو دیکھا، پتھر سے ابھی بھی پانی بہہ رہا ہے، اُن نبی عَلَیْہِ السَّلَام نے پوچھا: تجھے جہنّم سے آزادی کی خوشخبری مِل چکی، اب کیا معاملہ ہے؟ اب کیوں روتے ہو؟ پتھر نے عرض کیا: ذٰلِکَ کَانَ بُکَاءَ الْحُزْنِ وَالْخَوْفِ وَ ہٰذَا بُکَاءُ الشُّکْرِ وَالسُّرُوْرِ یعنی پہلے غم اور خوفِ خُدا کے سبب آنسو بہہ رہے تھے، اب شکرانے اور خوشی کے آنسو بہا رہا ہوں۔([1])

خوفِ خُدا سے رونے کے فضائل

اللہ! اللہ...!! کاش! ہمیں بھی خوفِ خُدا سے رَونا نصیب ہو جائے۔ اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جِس مؤمن کی آنکھوں سے خوفِ خُدا کے سبب آنسو نکلتے ہیں اگرچہ مکھی کے سَر کے برابر ہوں، پھر وہ آنسو اس کے چہرے کے ظاہِری حصّے کو پہنچیں تو اللہ پاک اُسے جہنّم پر حرام کر دیتا ہے۔([2])

قلب پتھر سے بھی سختی میں بڑھا جاتا ہے              خَول پر خول سیاہی کا چڑھا جاتا ہے

لاؤں وہ اشک کہاں سے جو سیاہی دھوئیں    گندگی میں مرا دِل حد سے بڑھا جاتا ہے

المدد...!! یا شہِ ابرار مدینے والے!                                               قلب سے خوفِ خُدا دور ہوا جاتا ہے

ایک حدیثِ پاک میں ہے: خوفِ خُدا سے رونے والا ہر گز جہنّم میں داخِل نہیں ہو گا یہاں تک کہ  دُودھ تھن میں واپَس چلا جائے۔([3])

مفتی احمد یار خان نعیمی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: مطلب یہ


 

 



[1]...رسالہ قشیریہ ،باب الشکر ، صفحہ:213۔

[2]...شُعَبُ الْاِیْمان، جلد:1، صفحہ:490، حدیث:802۔

[3]...ترمذی، کتاب فضائلِ جہاد، باب ما جاء فضل الغبار فی سبیل اللہ، صفحہ:415، حدیث:1633۔