Dil Ki Sakhti Ka Waba

Book Name:Dil Ki Sakhti Ka Waba

انہوں نے ناشکری کی *انہیں تورات عطا کی گئی، انہوں نے ناشکری کی، بچھڑے کی پُوجا میں لگ گئے  *انہیں توبہ کی توفیق بخشی گئی، انہوں نے ناشکری کی *ان کے 70 افراد کو کوہِ طُور پر بُلایا گیا، انہوں نے گستاخی کی *انہیں من و سلویٰ عطا کیا گیا، انہوں نے ناشکری کی *انہیں قدرت کی نشانیاں دکھائی گئیں، انہوں نےناشکری کی، اللہ پاک کی نافرمانیوں میں مصروف رہے، گُنَاہوں سے باز نہ آئے، آخر یہ نتیجہ نکلا کہ ان کے دِل سخت ہو گئے۔ کتنے سخت ہوئے؟ فرمایا:

فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ (پارہ:1، البقرۃ:74)

تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: تو وہ پتھروں کی طرح ہیں

یہ انتہائی سختی کی علامت ہے، ویسے سخت تو اَور چیزیں بھی ہوتی ہیں، لوہا کتنا سخت ہوتا ہے مگر آگ میں رکھیں تو نرم پڑ جاتا ہے *لکڑی بھی سخت ہوتی ہے مگر پانی میں رکھیں تو نرم پڑ جاتی ہے *پلاسٹک سخت ہوتی ہے مگر آگ میں ڈالیں تو پگھل جاتی ہے *پتھر ایسی چیز ہے جو پانی میں گلتا نہیں، آگ میں جلتا نہیں، دُھوپ اور گرمائش میں پگھلتا نہیں، اسے توڑ کر، ہتھوڑے مار مار کر باریک بُرادہ تو کیا جا سکتا ہے، نرم نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح بنی اسرائیل کو گُنَاہوں کی سزا مِلی، ان کی نافرمانیوں کی نحوست یہ ہوئی کہ ان کے دِل پتھر کی طرح سخت ہو گئے، یعنی ایسے بن گئے کہ اب کسی طرح نرم نہیں ہو سکتے۔

بلکہ بات تو اس سے بھی آگے گزر چکی ہے، وہ کیسے؟ فرمایا:

اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةًؕ-(پارہ:1، البقرۃ:74)

تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت ہیں۔

یعنی ان کے دِل پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو گئے ہیں۔ اَب بَھلا پتھر سے زیادہ سختی کیا