Nafarman Bandar Ban Gaye

Book Name:Nafarman Bandar Ban Gaye

دِل اُلَٹ دئیے جاتے ہیں

 اے عاشقانِ رسول ! اللہ پاک کا فضل ہے، ہمارے پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کا کرم ہے کہ اللہ پاک اپنے مَحْبُوب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے صدقے میں آپ کی اُمَّت کورُسوا نہیں کرتا، ہم گُنَاہ بھی کرتے ہیں تو ہم پر پہلی قوموں کی طرح اجتماعی عذاب نہیں آتے، ہمارے چہرے نہیں بگاڑے جاتے، اِس اُمّت کو پہلی اُمّتوں کی طرح بندر اور خنزیر نہیں بنایا جاتا مگر یاد رکھئے! اللہ پاک کی نافرمانی کا نتیجہ تو بہرحال نکلتا ہی ہے۔ عُلَما فرماتے ہیں: پچھلی اُمّتوں کا عذاب جسمانی خَسْف و مَسْخ تھا (یعنی پہلی اُمّتیں نافرمانی کرتیں تو اُنہیں زمین میں دَھْنسا دیا جاتا تھا، اُن کے چہرے بگاڑ دئیے جاتے تھے، کوئی بندر بن جاتا، کوئی خنزیر بن جاتا تھا) لیکن اِس اُمّت کا عذاب روحانی خَسْف و مَسْخ ہے، پہلے جسم بدلتے تھے، اب دِل اُلَٹ دئیے جاتے ہیں۔([1]) اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:

وَ نُقَلِّبُ اَفْـٕدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ (پارہ:7، الاَنْعَام:110)

تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان:اور ہم اُن کے دلوں اور اُن کی آنکھوں کو پھیر دیں گے۔

اللہ پاک کی پناہ! اللہ پاک کی پناہ! کیسی عبرت کی بات ہے، گُنَاہ کرنے سے، اللہ و رسول کی نافرمانی کے سبب دِل اُلٹ دئیے جاتے ہیں۔

دِل اُلَٹ جانے کی 3 نشانیاں

حکیم الاُمَّت، مفتی احمد یار خان نعیمی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ یہ آیت ذِکْر کر کے فرماتے ہیں: دِل بگڑنے کی 3نشانیاں ہیں: (1):اطاعت میں لذّت نہ پانا (2):گُنَاہ سے خوف نہ کرنا (3):کسی


 

 



[1]...تفسیرِ نعیمی، پارہ:1، سورۂ بقرہ، زیرِآیت:66، جلد:1، صفحہ:454۔