Book Name:Nafarman Bandar Ban Gaye
فرماتے ہیں: عِبْرت کے ذریعے عِلْم میں اِضَافہ ہوتا ہے۔([1])
یعنی جس خوش نصیب کے پاس نگاہِ عبرت ہو، وہ ہر چیز سے عِبْرت لیتا ہے، یُوں اُس کے دِل میں نُوْرَانیت بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ اللہ پاک ہمیں عَمَل کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! اَب یہ قرآنی واقعہ جو ہم نے سُنَا، اِس سے ہم عِبْرت لیں، کیا کیا سبق ہیں اِس میں؟ سنیئے!
سب سے پہلا سبق تو یہ ہے کہ گُنَاہ کا انجام ذِلّت و رُسوائی ہے۔ اِس سے بحث نہیں ہے کہ گُنَاہ چھوٹا ہے یا بڑا ہے، آگ تو آگ ہی ہوتی ہے، چھوٹی سی چنگاری ہو یا بڑا سا کوئلہ ہو، نقصان دونوں ہی کرتے ہیں، اِسی طرح گُنَاہ چھوٹا ہے یا بڑا ہے، چونکہ وہ اللہ و رسول کی نافرمانی ہے، لہٰذا اُس کا انجام ذِلّت ہے۔ دیکھئے! بنی اسرائیل کا یہ قبیلہ کتنا خوشحال تھا، یہ سب لوگ مچھلیاں پکڑتے تھے، بیچتے تھے، مال کماتے، کھاتے پیتے، مزے سے زندگی گزارتے تھے، جب اُنہوں نے نافرمانی کی، اللہ پاک کا حکم نہ مانا، تب سے اُن کی اُلٹی گنتی شروع ہو گئی، آخر انجام کیا ہوا؟ یہ نافرمان لوگ بندر بن گئے۔
اللہ پاک ہمیں ایسے بھیانک انجام سے محفوظ فرمائے، ہمیں چاہئے کہ گُنَاہوں سے ہردَم بچتے ہی رہا کریں۔