Nafarman Bandar Ban Gaye

Book Name:Nafarman Bandar Ban Gaye

مہلت توبہ کے لئے ہے

اللہ پاک کے نبی ہیں: حضرت ابراہیم خلیل اللہ عَلَیْہِ السَّلَام۔ آپ کو بھی مِعْراج ہوئی تھی، آپ ایک چٹان پر کھڑے ہوئے، تب آپ کے لئے زمین و آسمان کا مشاہدہ کھول دیا گیا، آپ نے یہیں کھڑے کھڑے ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کے عجائبات دیکھ لیئے! ([1])   حضرتِ عطا رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام جب زمین و آسمان کی بادشاہت ملاحظہ فرما رہے تھے، آپ کی نگاہِ پاک ایک بندے پر پڑی، وہ بدکاری میں مبتلا تھا، اِبْراہیم عَلَیْہِ السَّلَام چونکہ اللہ پاک کے نبی ہیں، گُنَاہوں سے تو بہت ہی نفرت کرتے تھے، آدمی کو اللہ پاک کی نافرمانی کرتے دیکھا تو بہت غیرت آئی، اُسی غلبۂ غیرت کے سبب آپ نے اس کے خِلاف دُعا کی، وہ شخص اُسی وقت ہلاک ہو گیا *ایک اور بندے کو دیکھا، وہ چوری کر رہا تھا، آپ نے اس کے خِلاف بھی دُعا کی، وہ بھی وہیں ہلاک ہو گیا۔ یہ معاملہ ہوا تو اللہ پاک نے فرمایا: اے ابراہیم! ہمارے بندوں کو چھوڑ دو...!! بیشک میرے بندے کے لئے 3صُورتیں ہیں: (1):یا تو یہ کہ وہ گُنَاہ کے بعد توبہ کر لے گا، لہٰذا میں بخش دُوں گا (2):یا پِھر اُس کی اَوْلاد ایسی نیک ہو گی کہ اُس کی بخشش کا سبب بن جائے گی (3):تیسری صُورت یہ کہ بندے پر بدبختی غالِب آئے گی (یہ مہلت سے فائدہ نہیں اُٹھائے گا)، تب اُس کے لئے جہنّم ہے۔([2])  

اللہ! اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! دیکھئے! یہ اللہ پاک کی کتنی رحمت ہے، بندہ گُنَاہ کرتا ہے، رَبِّ رحمٰن چاہے تو فورًا پکڑ فرما سکتا ہے، وہ قدرتوں والا ہے، چاہے تو بندہ زمین میں


 

 



[1]...سیرتُ الانبیاء، صفحہ:305۔

[2]...تفسیر طبری، پارہ:7، سورۂ انعام، زیرِ آیت:75، جلد:5، صفحہ:232، رقم:13457 مفصلًا۔