Book Name:Nafarman Bandar Ban Gaye
ہیں مگر یہ قوم جنہیں بندر بنایا گیا، یہ عام بندروں کی طرح خوبصُورت نہ تھے بلکہ فرمایا:
خٰسِـٕیْنَۚ(۶۵) (پارہ:1، البقرۃ:65)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: دُھْتکارے ہوئے۔
یعنی یہ دُھْتکارے ہوئے، ذَلیل قِسم کے بندر بنے کہ اُن کے جسم سے بدبُونکلتی تھی، کوئی اُن کے قریب نہیں آتا تھا، یہ عام بندروں جیسی حرکتیں نہیں کرتے تھے، بس دُم ہلاتے اور روتے رہتے تھے، جو اُن کو دیکھتا تھا، اُن پر لعنت کرتا تھا۔([1]) یہ 3دِن تک یونہی ذِلَّت کے ساتھ زِنْدہ رہے، پِھر سب فنا ہو گئے۔
گر تُو ناراض ہوا میری ہلاکت ہو گی ہائے میں نارِ جہنم میں جلوں گا یاربّ!([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! اِس واقعہ سے ہمیں بہت سارے سبق سیکھنے کو ملتے ہیں، پہلا سبق تو قرآنِ کریم ہی میں واضِح کر کے بیان ہوا کہ
فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهَا وَ مَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ(۶۶) (پارہ:1، البقرۃ:65)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: تو ہم نے یہ واقعہ اُس وقت کے لوگوں اور اُن کے بعد والوں کے لیے عبرت اور پرہیز گاورں کے لئے نصیحت بنا دیا۔
یعنی اِن نافرمانوں کو نشانِ عِبْرت اور سامانِ نصیحت بنا دیا گیا۔
اِس سے معلوم ہوا ؛ قرآنِ کریم میں یہ واقعہ محض مَعْلُومات کے لئے بیان نہیں کیا گیا