Nafarman Bandar Ban Gaye

Book Name:Nafarman Bandar Ban Gaye

دھنس جائے، آسمان سے اُس پر پتھر برس پڑیں *اَبْرَہَہ کیسا ظالِم بادشاہ تھا جو ہاتھیوں پر سُوار ہو کر کعبہ شریف کو گِرانے آیا تھا، اللہ پاک نے اَبَابِیْلوں کے ذریعے اُسے تباہ و برباد فرما دیا *نَمْرُود کیسا جابِر بادشاہ تھا، ایک مچھر کے ذریعے ہلاک ہوا، اللہ پاک چاہے تو کیا نہیں ہو سکتا مگر وہ اپنے بندوں سے پیار فرماتا ہے، بہت ہی مہربان، نہایت رحم والا ہے، اپنے بندوں کو مہلت عطا فرماتا ہے کہ بندہ تَوْبہ کر لے، نافرمانیوں سے باز آجائے مگر *جو اِس مہلت سے فائدہ نہیں اُٹھاتا * گُنَاہ نہیں چھوڑتا *توبہ نہیں کرتا، اُس کی پکڑ ہوتی ہے اور اللہ پاک کی پکڑ اِنْتہائی سخت ہے۔

مسلسل نافرمانیوں کا عبرتناک انجام

حضرت منصور بن عمّار رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: میرا ایک دینی بھائی تھا، مجھ سے بڑی عقیدت رکھتا تھا، میری نگاہ میں بڑا عبادت گزار، تہجد پڑھنے والا، خوفِ خُدا سے رونے والا تھا۔ ایک مرتبہ مجھے خبر ملی کہ میرا وہی دینی بھائی بیمار ہے اور بہت کمزور ہو چکا ہے، میں عیادت کے لئے اُس کے گھر پہنچا، میں نے دیکھا کہ وہ گھر کے درمیان میں لیٹا ہے، اُس کا چہرہ سیاہ اور آنکھیں نیلی ہو چکی ہیں۔ میں نے اسے کہا: اے میرے بھائی! لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کی کَثْرت کرو! اُس نے اپنی آنکھیں کھولیں، بڑی مشکل سے میری طرف دیکھا، پھر بےہوش ہو گیا، میں نے دوبارہ اُسے تلقین کی، اِس بار بھی اُس نے آنکھیں کھولیں، میری طرف دیکھا، پھر آنکھیں بند کر لیں، اَب میں نے ذرا سختی سے کہا: اگر تُو نے کلمہ نہ پڑھا تو میں تجھے نہ غسل دُوں گا، نہ کفن پہناؤں گا، نہ ہی تیرا جنازہ پڑھوں گا۔

یہ سُن کر اُس نے کہا: اَے مَنْصُور! میرے اور کلمۂ طیبہ کے درمیان رُکاوٹ کھڑی