Book Name:Nafarman Bandar Ban Gaye
صَدَقَ اللہُ الْعَظِیْم وَ صَدَقَ رَسُوْلُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیْم صلّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان:اور یقیناً تمہیں معلوم ہیں وہ لوگ جنہوں نے تم میں سے ہفتہ کے دِن میں سرکشی کی تو ہم نے اُن سے کہا کہ دُھْتکارے ہوئے بندر بن جاؤ تو ہم نے یہ واقعہ اُس وقت کے لوگوں اور اُن کے بعد والوں کے لیے عبرت اور پرہیز گاروں کے لئے نصیحت بنا دیا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! ہم نے پارہ: 1، سُورۂ بَقَرہ کی آیت: 65 اور 66 سُننے کی سَعَادت حاصِل کی، اِن 2آیات میں ایک عبرتناک واقعہ ذِکْر ہوا ہے، آئیے! پہلے واقعہ سُنتے ہیں، پِھر اِن آیات کی وضاحت اور اِن سے ملنے والے سبق سیکھیں گے۔
بَحْرِ قُلْزَم (Red Sea) جو حِجازِ مُقَدَّس اور مُلکِ شام کے بیچ میں ہے، یہاں ایک بستی تھی، جسے اَیْلہ کہتے تھے۔ حضرت ابُومُنْذِر رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: اللہ پاک کے نبی حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی پوتِی کا نام اَیْلہ تھا، اُنہی کی نسبت سے اِس بستی کا نام اَیْلَہ رکھا گیا۔([1])
واقعہ یہ ہوا کہ اس اَیْلَہ نامی بستی میں بنی اسرائیل کا ایک قبیلہ آباد تھا۔ یہ لوگ ماہِی گیر تھے، سمندر سے مچھلیاں پکڑتے، بیچتے اور اپنی روزی کا اہتمام کیا کرتے تھے، بڑی خُوشحال زِندگی گزررہی تھی، پھر قُدْرت کو اِن کا اِمتحان مَنْظُور ہوا، چُنانچہ اُن کے لئے ہفتے کے