Book Name:Nafarman Bandar Ban Gaye
فرعون نے مہلت سے فائدہ نہ اُٹھایا
کتابوں میں لکھا ہے: فرعون بدبخت جس نے خُدائی کا دعویٰ کیا تھا، حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا عصا شریف جب پُھْنکارتا(یعنی غضب سے لمبی سانس لیتا) ہوا سانپ بنا تو فرعون اس کے ڈر سے بھاگا اور بولا: اے موسیٰ! مجھے مہلت دیجئے! حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: اب کوئی مہلت نہیں۔ اس پر وحی آئی، اللہ پاک نے فرمایا: اے موسیٰ! بیشک میں حِلم والا ہوں، اسے مہلت دے دیجئے!
بعض روایات میں ہے: جب فرعون نے کہا: میں ہی تمہارا سب سے بڑا ربّ ہوں، اُس کے اِس گستاخانہ جملے پر زمین و آسمان کانپ گئے۔ حضرت جبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلَام نے اُس پر عذاب اُتارنے کے لئے پَر پھیلا دئیے مگر اللہ پاک نے اُسے مہلت دی اور فرمایا: جبریل! رُک جاؤ...!! اُس سے دَرْگُزر کرو...!! ([1])
اللہ اکبر! کیسا حِلْم ہے۔ فرعون کو باربار مہلت ملتی رہی مگر اُس نے اس مہلت سے فائدہ نہ اُٹھایا، تَوْبَہ کی طرف نہ بڑھا، مزید سرکشی ہی کرتا چلا گیا، آخر نتیجہ کیا ہوا؟ اللہ پاک فرماتا ہے:
فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ(۲۵) (پارہ:30، النازعات:25)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: تو اللہ نے اُسے دنیا و آخرت دونوں کے عذاب میں پکڑا۔
پتا چلا؛ *جو اللہ پاک کی دی ہوئی مہلت سے فائدہ نہیں اُٹھاتا *گُنَاہوں سے باز نہیں آتا *توبہ نہیں کرتا، آخر اُسے عبرت کا نشان بنا دیا جاتا ہے۔