Book Name:Nafarman Bandar Ban Gaye
*سرچ کی بہتری کے لئے اُردو کی بورڈ کی سہولت ہے تاکہ ایپلی کیشن میں سرچ کرنے میں آسانی ہو۔
بیان کو اختتام کی طرف لاتے ہوئے ایک شرعِی مسئلہ عرض کرتا ہوں:
(درست شرعی مسئلہ اور عوام میں پائی جانے والی غلط فہمی کی نشاندہی)
مسئلہ:اللہ پاک کی قسم کے علاوہ کسی اور چیز کی قَسَم کھانا نَاجائز و گناہ ہے۔
وضاحت:بڑا اَہَم مسئلہ ہے، اَوَّل تو زیادہ قسمیں کھانی ہی نہیں چاہئے، اَحادِیث میں اس سے منع کیا گیا ہے، پِھر ہمارے ہاں یہ غلطی بھی رائِج ہے کہ لوگ *ماں باپ کی قسم *بہن بھائی کی قسم *دادِی کی قسم تو *دادا کی قسم وغیرہ مختلف انداز سے قسمیں کھاتے ہیں، پِھر اس تعلق سے مختلف غلط فہمیاں بھی پائی جاتی ہیں، مثلاً؛ کسی کے نام کی جھوٹی قسم کھا لی تو اسے نقصان پہنچ جائے گا۔ یہ سب انداز بہت غلط ہیں۔ شرعِی مسئلہ ذِہن میں بٹھا لیجئے! دِین میں صِرْف اللہ پاک کی قسم کھانے کی اجازت ہے، اس کے عِلاوہ کسی چیز مثلاً؛ ماں، باپ، بہن بھائی، مسجد، کعبہ وغیرہ کی قسم کھانا نَاجائِز اور گُنَاہ ہے۔ ہاں! قرآنِ کریم کی سچّی قسم کھانا جائِز ہے۔([1]) مسلم شریف میں ہے، پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلَا يَحْلِفْ اِلَّا بِاللهِیعنی قسم کھانے والا صِرْف و صِرْف اللہ پاک ہی کی قسم کھائے۔([2]) اللہ پاک ہمیں دُرست