Nafarman Bandar Ban Gaye

Book Name:Nafarman Bandar Ban Gaye

کی موت سے عِبْرت نہ پکڑنا۔([1])

ان تینوں نشانیوں کو سامنے رکھ کرہم اپنے دِل کی حالت پر ذرا غور کریں، آج ہماری حالت کچھ ایسی ہی ہے*گُنَاہوں میں ایسی لذّت ملتی ہے کہ گھنٹوں کے گھنٹے گزر جاتے ہیں، اِحْسَاس تک نہیں ہوتا *ہاں! نمازوں میں ہمارا دِل نہیں لگتا *فُضُول کاموں میں مَصْرُوف ہوں تو وقت کی فِکْر ہی نہیں ہوتی *تلاوت کرنے بیٹھ ہی جائیں تو اِدھر اُدھر کے کام یاد آنے لگتے ہیں *رمضان المبارک تشریف لے آئے تو کبھی گرمی کا بہانہ، کبھی کام کاج کی فِکْر، ایک تعداد ہے جن کا روزے رکھنے کی طرف دِل مائِل ہی نہیں ہوتا *اور کسی کی موت سے عِبْرت پکڑنے کی حالت تو ایسی ہے کہ بعض دفعہ لوگ جنازہ گاہ میں کھڑے بھی قہقہے لگا رہے ہوتے ہیں۔ آہ! ہمارے دِل کی یہ نازُک حالت، غفلت کے پردے، دِل کی سیاہی...!

پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں فِکْر کرنی چاہیے، کہیں ایسا تو نہیں کہ گُنَاہوں کی نحوست ہمیں جکڑ چکی ہے، ہمارے دِل اُلٹ دئیے گئے ہیں اور ہمیں اُس کا اِحْسَاس تک نہیں ہے۔ اِس لئے ہمیشہ گُنَاہوں سے بچتےرہیں۔

گُنَاہوں سے بچنے کا طریقہ

اب مسئلہ یہ ہے کہ گُنَاہوں سے بچنا کیسے ہے؟ ظاہِرہے جب معلوم ہو گا کہ کون سا کام گُنَاہ ہے، تبھی تو اُس سے بچ پائیں گے، اَفسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کل دِینی معلومات کی بہت کمی ہے، لوگوں کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ کون سا کام گُنَاہ ہے؟ کون سا کام نیکی ہے؟ اِس لئے سب سے پہلے گُنَاہوں کی معلومات حاصِل کریں، مکتبۃ المدینہ کی کتاب ہے:


 

 



[1]...تفسیرِ نعیمی، پارہ:1، سورۂ بقرہ، زیرِآیت:66، جلد:1، صفحہ:454 بتغیر قلیل۔