Book Name:Nafarman Bandar Ban Gaye
امیرِ اہلِ سنت مولانا الیاس قادِری دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ اپنی کتاب مَدَنی پنج سُوْرہ میں فرماتے ہیں:توبہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جو گُناہ ہوا خاص اُس گناہ کا ذِکْر کرکے دِل کی بیزاری اور آئندہ اُس سے بچنے کا عہد کر کے توبہ کرے۔ مَثَلاً جھوٹ بولا، تو بارگاہِ خُداوندی میں عرض کرے، یا اللہ پاک!میں نے جو یہ جھوٹ بولا اِس سے توبہ کرتا ہوں اور آئندہ نہیں بولوں گا۔ تَوْبہ کے دَوران دل میں جُھوٹ سے نفرت ہو اور آئندہ نہیں بولوں گا کہتے وَقت دل میں یہ ارادہ بھی ہو کہ جو کچھ کہہ رہا ہوں ایسا ہی کرو ں گا جبھی توبہ ہے۔ اگر بندے کی حق تَلْفِی کی ہے تو تَوْبَہ کے ساتھ ساتھ اُس بندے سے مُعاف کروانا بھی ضَروری ہے۔ ([1])
سانپ بچّھو قبر میں گر آ گئے! کیا کرے گا بےعمل گَرْ چَھا گئے!
کر لے تَوْبَہ ربّ کی رحمت ہے بڑی قبر میں ورنہ سزا ہو گی کڑی([2])
(3):غلط حیلے مت نکالئے...!!
پیارے اسلامی بھائیو! بنی اسرائیل کے لوگ جو بندر بن گئے، اُن کے واقعے سے تیسرا سبق ہمیں یہ مِلا کہ دِینی اَحْکام اپنانے میں غلط حیلے اور بہانے ہر گز نہیں بنانے چاہئے! دیکھئے! بنی اسرائیل کو حکم تھا کہ ہفتے کے دِن شکار نہیں کرنا۔ اُنہوں نے کیا کِیَا؟ سمندر میں جال نہیں ڈالا بلکہ سمندر سے چھوٹی چھوٹی نالیاں کھینچ لیں، آگے بڑے حوض بنا لئے، نالیوں کے ذریعے مچھلیاں حوض میں آجاتیں، پِھر یہ اُنہیں قید کر لیتے اور کہتے کہ ہم نےشکار تو نہیں کیا۔ یہ بس کہہ لیجئے! کہ دِل کی تسلی تھی، ورنہ یہ کر تو شکار ہی رہے تھے۔