Nafarman Bandar Ban Gaye

Book Name:Nafarman Bandar Ban Gaye

نافرمان پر اللہ پاک کی لعنت

حضرت وَہب رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ سے روایت ہے، اللہ پاک نے اَنبیائے بنی اسرائیل میں سے کسی نبی عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی: بندہ جب میری اطاعت کرتا ہے تو میں اُس سے راضی ہو جاتا ہوں اور جب میں اُس سے راضی ہو جاتا ہوں تو اُسے برکتیں عطا فرماتا ہوں۔ جب بندہ میری نافرمانی کرتا ہے تو میں اُس سے ناراض ہو جاتا ہوں اور جب میں اُس سے ناراض ہو جاتا ہوں تو اُس پر لعنت برساتا ہوں اور میری لعنت اُس کی 7 پشتوں تک پہنچتی ہے۔ ([1])

گر تُو ناراض ہوا میری ہلاکت ہوگی                                                                    ہائے! میں نارِجَہنَّم میں جلوں گا یاربّ!

عَفو کر اور سدا کے لئے راضی ہوجا                                                                   گر کرم کر دے تَو جنّت میں رہوں گا یاربّ! ([2])

نافرمانی آفتوں اور بلاؤں کا سبب ہے

اللہ پاک قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(۴۱) (پارہ:21، الرُوْم:41)

تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیا اُن برائیوں کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تاکہ الله اُنہیں اُن کے بعض کاموں کا مزہ چکھائے تاکہ وہ باز آ جائیں۔ 

اللہ اکبر! معلوم ہوا؛ اللہ پاک کی نافرمانی اور گُنَاہوں کے سبب زمین میں فساد برپا ہوتا ہے، قحط پڑتا ہے، بارشیں رُک جاتی ہیں، فصلیں تباہ و برباد ہوتی ہیں، وبائیں پھیلتی ہیں اور نہ جانے کیسے کیسے فسادات زمین میں ظاہِر ہوتے ہیں۔


 

 



[1]...الزواجر عن اقتراف الکبائر، جلد:1، صفحہ:27۔

[2]...وسائلِ بخشش، صفحہ:85ملتقطاً۔