Book Name:Sidra Tul Muntaha Ke Waqiyat
جس پر آپ ہیں۔ یعنی دُودھ اسلام و دِین کی علامت ہے۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! گویا حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی مہمان نوازی کی سَعَادت حاصِل کر رہے ہیں۔ خیال رہے! پاکیزہ شراب، دودھ اور شہد کے پیالے 2 مرتبہ پیش کئے گئے، ایک مرتبہ بیت المقدس میں نماز کے بعد، دوسری مرتبہ سِدْرۃُ المنتہیٰ پر، پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے دونوں مرتبہ دُودھ کو ہی اختیار فرمایا۔ علامہ اِبْنِ حجر عسقلانی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ لکھتے ہیں: دودھ اور عِلْمِ دِین کی آپس میں مشابہت ہے۔ جیسے دُودھ جسم کو مضبوط کرتا ہے، اسی طرح عِلْمِ دِین رُوح کو مضبوط کرتا ہے۔([2]) جس کے ذریعے آدمی فطرت پر قائِم رہتا ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو! غور فرمائیے! پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمت میں 3 پیالے پیش کئے گئے، آپ نے کسے اختیار فرمایا؟ فطرت کو۔ اس میں ہمارے لئے سبق ہے، ہمیں بھی چاہئے کہ ہمیشہ فطرت کو اختیار کیا کریں۔ اب یہ فطرت کیا ہے؟ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَاؕ- (پارہ:21، اَلْرُوم:30)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان:(یہ) الله کی پیدا کی ہوئی فطرت (ہے) جس پر اس نے لوگوں کوپیدا کیا۔
اس آیت میں فطرت سے مراد دِینِ اسلام ہے۔([3]) یعنی فرمایا جا رہا ہے کہ اے لوگو!