Book Name:Sidra Tul Muntaha Ke Waqiyat
چھوڑ دے سارے غَلَط رَسم و رَواج سُنتوں پر چلنے کا کر عہد آج([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
نماز وِتْر کی ابتدا کیسے ہوئی؟
کتابوں میں لکھا ہے: شبِ معراج جب پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم سِدْرۃُ المنتہیٰ پر پہنچے تو حضرت جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کیا: یارسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم! یہ میرا مقام ہے، یہاں کم از کم ایک رکعت نماز ادا فرما دیجئے! تاکہ مجھے اور میرے مقام کو آپ کی برکات نصیب ہو جائیں۔ معراج کے دولہا، رسولِ خُدا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے یہ درخواست قبول کی اور فرمایا: میں ایک نہیں 2 رکعت ادا کروں گا۔ چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے 2 رکعت نماز ادا فرمائی، جب دوسری رکعت کے قعدہ میں پہنچے تو اللہ پاک کا حکم آیا: اےپیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم! یہ 2 رکعت تو آپ نے پسند فرمائیں، ایک رکعت مزید میرے حکم سے شامِل فرما لیجئے! چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے تیسری رکعت بھی ادا فرمائی۔ یہیں سے نمازِ وِتْر کی ابتدا ہوئی۔([2])
سُبْحٰنَ اللہ! معلوم ہوا؛ 5 نمازوں کی طرح نمازِ وِتْر بھی معراج ہی کا تحفہ ہے۔ نمازِ وِتْر واجِب ہے، اگر نہ پڑھی تو اس کی قضا کر نا ضروری ہوتا ہے، لہٰذا نمازِ وِتْر ضرور پڑھا کیجئے! رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اے اہلِ قرآن !وِتْر ادا کیا کرو کیونکہ اللہ پاک وِتْر ہے اور وِتْر کو پسند فرماتاہے۔([3])