Sidra Tul Muntaha Ke Waqiyat

Book Name:Sidra Tul Muntaha Ke Waqiyat

طالِب کا پتہ مَطْلُوب کو ہے مَطْلُوب ہے طالِب سے واقِف

پَردے میں بُلا کر مِل بھی لئے پَردہ بھی رَہا سُبْحٰنَ اللہ!

ہے عَبْد کہاں معبود کہاں مِعْرَاج کی شب ہے راز نِہاں

دو نُور حجابِ نُور میں تھے خود ربّ نے کہا سُبْحٰنَ اللہ!

سمجھے حامِدؔ اِنسان ہی کیا یہ راز ہیں حُسن و اُلْفَت کے

خالِق  کا  حَبِیْبِی کہنا  تھا  خَلقت نے  کہا  سُبْحٰنَ اللہ!([1])

سَفَرِ مِعْراج کی منازِل

مِعْراج عُرُوج سے بنا ہے، جس کا معنیٰ ہے: بلندی۔ سَفَرِ مِعْراج کے 2 حصّے ہیں:ایک ہے مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک کا سَفَر، اسے اِسْراء کہتے ہیں۔([2]) پِھر اس کے بعد آسمانوں کا سَفَر شروع ہوا، اسے مِعْراج کہتے ہیں۔([3]) اس رات کو پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے آسمانوں کا جو سَفَر فرمایا، اس میں کل 10 منزلیں تھیں۔ 7منزلیں آسمانوں کی کہ آپ ہر آسمان پر رُکتے، وہاں کے مشاہدات فرماتے ہوئے گزرے۔ پِھر آٹھویں منزل سِدْرَۃُ الْمُنْتہیٰ، نویں منزل مقامِ مُسْتَویٰ اور دسویں منزل مقامِ دَنیٰ یعنی اللہ پاک کے خاص قُرْب کا مقام۔ جہاں اللہ پاک نے آپ کو اپنے دِیدار اور بےپردہ ہَمْکلامی کا شرف عطا فرمایا۔([4])


 

 



[1]...بیاض پاک، صفحہ:33۔

[2]...صراط الجنان، پارہ:15، سُورۂ اسراء، جلد:5، صفحہ:408۔

[3]...سیرتِ رسولِ عربی، صفحہ:333۔

[4]...فیضان معراج، صفحہ:33-35 خلاصۃً۔