Book Name:Akhir Mout Hai
قَالَ اللہ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی فِی الْقُرْآنِ الْکَرِیْم(اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے):
قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠(۸) )پارہ 28،جمعہ:8)
صَدَقَ اللہ الْعَظِیْم وَ صَدَقَ رَسُوْلُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیْم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: تم فرماؤ: بیشک وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو پس وہ ضرور تمہیں ملنے والی ہے پھر تم اس کی طرف پھیرے جاؤ گے جو ہر غیب اور ظاہر کا جاننے والا ہے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال بتادے گا۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! بنی اِسْرائیل جن کا ذِکْر قرآنِ کریم میں بار بار آیا ہے، قرآنِ کریم میں ان کے 2 مُتَضَاد (یعنی ایک دوسرے کے اُلٹ) اَعْمال کا ذِکْر ہوا (1):ان کا یہ دعویٰ تھا کہ
نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗؕ (پارہ:6، مائدہ:18)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان : ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں ۔
اب جو اللہ پاک کا پیارا اور محبوب بندہ ہو، اس کے تو آخرت میں وارے نیارے ہوں گے، اُسے جنّت میں داخِلہ نصیب ہو گا، ہمیشہ کی زندگی ملے گی، نعمتیں ہی نعمتیں ہوں گی، نہ کوئی فِکْر ہو گی، نہ غم ہو گا، بَس سکون ہی سکون، چین ہی چین، آرام ہی آرام ہو گا۔ لہٰذا ایسے بندے کو تو چاہئے کہ انتظار کرے کہ کب موت آئے، کب اِس فانِی دُنیا، اِس جنجال گھر سے نکلوں، غموں، دُکھوں اور فِکْروں سے آزادی ملے اور جنّت کے مزے لُوٹوں مگر بنی اسرائیل کا حال اُلٹ تھا، یہ دعویٰ کرتے تھے کہ ہم اللہ پاک کےپیارے ہیں، جنّت