Book Name:Akhir Mout Hai
پکّی ہماری ہی ہے مگر انہیں دُنیا سے محبّت اِتنی تھی کہ اللہ پاک فرماتا ہے:
یَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍۚ (پارہ:1، بقرہ:96)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: ایک (گروہ)تمنا کرتاہے کہ کاش اسے ہزار سال کی زندگی دیدی جائے۔
یعنی ایک طرف تو دعویٰ ہے کہ جنَّت پکّی ہماری ہے، ہم تو مرتے ہی سیدھے جنّت میں پہنچیں گے، دوسروں کو ترغیب دِلاتے تھے کہ اگر جنّت میں جانا ہے تو ہمارے پیچھے چل پڑو کیونکہ جنّت ہمیں ہی ملنی ہے مگر فِکْرِ آخرت سے دُوری اور دُنیا سے محبّت اِتنی تھی کہ ہزاروں سال یہیں رہنا چاہتے تھے۔ اِن بنی اسرائیل سے متعلق ارشاد ہوا:
قُلْ (پارہ28،جمعہ:8)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: تم فرماؤ۔
یعنی اے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! یہ بنی اسرائیل جو خُود کو اللہ پاک کا پیارا بھی کہتے ہیں اور موت سے ڈرتے بھی بہت ہیں، ان سے کہہ دیجئے! ([1]) کیا کہنا ہے؟
اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ (پارہ28،جمعہ:8)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: بیشک وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو پس وہ ضرور تمہیں ملنے والی ہے ۔
یعنی تم چاہے جتنا بھاگ لو! جو مرضی کر لو! موت بالآخر آنی ہی آنی ہے۔
اچھا...!! یہ موت آجانی ہے تو بات یہاں ختم نہیں ہو جانی، ایسا نہیں کہ موت آئی تو قصہ تمام ہو گیا، نہیں...!! نہیں! اَصْل قِصَّہ تو موت کے بعد ہی شروع ہونا ہے۔ اللہ پاک نے فرمایا: اے پیارے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! اِن سے کہہ دیجئے!
ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ (پارہ28،جمعہ:8)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان : پھر تم اس کی طرف پھیرے