Book Name:Apni Jan Par Zulm
اللہ پاک نے فرمایا:
اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْــٴًـا (پارہ:11، یونس:44)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: بیشک اللہ لوگوں پر کوئی ظلم نہیں کرتا۔
یہ اللہ پاک کی عظیم شان ہے کہ وہ رَبِّ جَبَّار و قَہَّار ذَرَّہ برابر بھی کسی پر ظُلْم نہیں فرماتا۔ ویسے اگر دیکھا جائے تو اُس خالِق و مالِک کی جانِب سے ظُلْم ہو بھی نہیں سکتا، مثال کے طَور پر ایک چیز میری اپنی ہے، ذاتی ملکیت ہے، میں نے پیسوں سے خریدی ہے، اگر میں اُس چیز کو توڑ دیتا ہوں، جَلا دیتا ہوں، کہیں پھینک دیتا ہوں، کیا میں نے یہ ظُلْم کیا؟ نہیں...!!کوئی ظُلْم نہیں ہے، میری چیز تھی، میں نے توڑ دی۔ یہ صِرْف سمجھانے کے لئے ایک مثال دی، یہ ساری دُنیا، اس کا ایک ایک ذَرَّہ اللہ پاک کا ہے، وہ اس کا خالِق ہے، مالِک ہے، بنائی بھی اُسی نے، چلا بھی وہی رہا ہے، اب اگر وہ اِس پُوری دُنیا کو تباہ فرما دے، یہ ظُلْم کیسے ہو گا؟ اُس کی چیز ہے، وہ جو چاہے کرے۔ حدیثِ پاک میں آیا: اگر اللہ پاک اَوَّلِیْن و آخِرین سب لوگوں کو جہنّم میں ڈال دے، تب بھی یہ ظُلْم نہیں ہے۔ ([1])
لہٰذا اَللہ پاک کی طرف ظُلْم کی نسبت کسی صُورت ہو ہی نہیں سکتی ہے، چنانچہ اَوَّل تو یہ کہ وہ خالِقِ کریم جو بھی کرے، ظُلْم ہو ہی نہیں سکتا، پِھر اس کے ساتھ ساتھ اُس رَبُّ الْعَالَمِیْن، رَحْمٰن و رحیم مالِک نے اپنی رَحْمت پر یہ بھی مقرّر فرما لیا کہ کسی بھی شخص کو بےقُصُور سزا نہیں دی جائے گی۔ یہی وہ بات ہے، جسے یہاں بیان کیا، فرمایا:
اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْــٴًـا (پارہ:11، یونس:44)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: بیشک اللہ لوگوں پر کوئی ظلم نہیں کرتا۔