Apni Jan Par Zulm

Book Name:Apni Jan Par Zulm

اُس جگہ پہنچ گئے، جَھاڑیوں وغیرہ کے پیچھے کہیں چُھپ کر بیٹھے اور اِنتظار کرنے لگے۔ اتنے میں وہاں ایک امیر شخص آیا، گھوڑے پر سُوار ہے، ہاتھ میں پیسوں سے بھرا ہوا تھیلا ہے، وہ دریا کے پاس آ کر رُکا، اپنا پیسوں کا تھیلا ایک طرف رکھا، دریا کے پانی سے ہاتھ مُنہ دھویا اور گھوڑے پر سُوار ہو کر روانہ ہو گیا۔ پیسوں کا تھیلا جو اُس نے ایک طرف رکھا تھا، وہ اُٹھانا بُھول گیا۔ تھوڑی دَیْر گزری، ایک بچہ وہاں آیا، اُس نے تھیلا دیکھا، اس کے اندر پیسے دیکھے تو تھیلا اُٹھا کر گھر لے گیا۔

تھوڑی ہی دَیْر گزری تھی کہ ایک اندھا بوڑھا وہاں پہنچا، اُسے آنکھوں سے دِکھتا نہیں تھا، اُس نے دریا کے پانی سے مُنہ ہاتھ دھویا اور آرام کرنے کے لئے ایک جگہ لیٹ گیا۔ اتنے میں وہ امیر شخص جس کا تھیلا تھا، جب اُسے احساس ہوا کہ میں تھیلا تو دریا کنارے ہی بھول آیا ہوں تو وہ دوبارہ واپس پہنچا، یہاں صِرْف یہ اندھا بوڑھا ہی تھا، امیر شخص نے بوڑھے سے پوچھا: کیا تم نے یہاں میرا تھیلا دیکھا ہے؟ بوڑھا بولا: میں تو اندھا ہوں، میں نے کوئی تھیلا نہیں دیکھا۔ وہ امیر شخص غُصّے ہو گیا، بولا: تم جُھوٹ بولتے ہو، تم نے ہی تھیلا اُٹھایا ہے، جلدی سے بتاؤ! تھیلا کہاں ہے، ورنہ میں تمہیں قتل کر دُوں گا۔ بوڑھا منّت سماجت کرنے لگا کہ بھائی! میں نے تھیلا نہیں دیکھا، میں تو اندھا ہوں۔ اُس امیر شخص نے بوڑھے کی ایک نہ سُنی اور غُصّے میں آ کر اُس بوڑھے کو قتل کر دیا۔

یہ منظر دیکھ کر حضرت موسیٰ  عَلَیْہِ السَّلَام  بڑے حیران ہوئے کہ یہ کیسا اِنْصاف ہے؟ بوڑھے شخص کا تو کوئی قصُور ہی نہیں تھا، وہ فضول میں ہی مارا گیا۔ اللہ پاک نے وحی بھیجی، فرمایا: اے موسیٰ  عَلَیْہِ السَّلَام  ! یہی ہمارا اِنْصاف ہے، مُعَامَلہ اَصْل میں یُوں ہے کہ وہ جو بچہ تھا،