Nazool e Quran Ka Aik Maqsid

Book Name:Nazool e Quran Ka Aik Maqsid

ہوں گے جو شفاعتِ کبریٰ کا دروازہ کھلوائیں گے* آپ ہی ہوں گے جو سب سے پہلے جنّت کا دروازہ کھلوائیں گے* آپ ہی ہوں گے جو ہم جیسے مجرموں کو اپنے دامنِ شفاعت میں چھپا کر جنّت میں پہنچا دیں گے*اتنی بلند شان، ایسی اعلیٰ عزّت ہونے کے باوُجُود ہمارے پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ  صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم  کے خوفِ خُدا کا کیا عالَم تھا، آپ  صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم  نے خوفِ آخرت پر مبنی آیات سُنی تو غش آ گیا۔یہ تو ایک روایت ہے، اس کے عِلاوہ اور کتنی روایات ہیں جن میں اس بات کا واضِح بیان ہے کہ آپ  صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم  تِلاوت سنتے یا خُود تلاوت فرماتے تو آپ  صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم  کی مبارک آنکھوں سے آنسو جاری ہو جایا کرتے تھے۔

قرآن سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے

اسی طرح صحابۂ کرام  علیہم الرِّضْوَان  کے مبارک احوال دیکھئے۔اللہ پاک فرماتا ہے:

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ ﳓ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْۚ-ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِؕ- (پارہ:23،سورۂ زمر:23)

ترجمہ کَنْزُ العرفان:اللہنے سب سے اچھی کتاب اتاری کہ ساری ایک جیسی ہے، باربار دہرائی جاتی ہے۔ اس سے ان لوگوں کے بدن پر بال کھڑے ہوتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں پھر ان کی کھالیں اور دل اللہ کی یاد کی طرف نرم پڑجاتے ہیں۔

یہ صحابۂ کرام  علیہم الرِّضْوَان  کا مبارک انداز...!!حضرت اَسْمَاء    رَضِیَ اللہُ عنہا   فرماتی ہیں: صحابۂ کرام  علیہم الرِّضْوَان  کی یہ حالت تھی کہ جب ان کے سامنے قرآنِ کریم کی تِلاوت کی جاتی تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے اور ان کے رونگٹے (یعنی جسموں پر موجُود