Book Name:Nazool e Quran Ka Aik Maqsid
کے لئے ایک اور مدنی پھول جو امام غزالی رَحمۃُ اللہِ علیہ کی تعلیمات سے حاصِل ہوتا ہے وہ یہ کہ خوفِ خُدا کے درجات کا لحاظ کیا جائے، امام غزالی رَحمۃُ اللہِ علیہ نے منہاج العابدین میں خوفِ خُدا کو خَطَرات میں شُمار کیا ہے یعنی خوفِ خُدا دِل میں پیدا ہونے والے خیالات میں سے ہے، یہ خوفِ خُدا کا ابتدائی درجہ ہے، مطلب یہ ہے کہ ابتداءً خوفِ خُدا محض ایک خیال کی طرح ہوتا ہے، دِل میں آیا اور ختم ہو گیا، کبھی اچانک قبر کا خیال آ گیا، کبھی روزِ قیامت اللہ پاک کے حُضُور حاضِری کا خیال آگیا، کبھی جہنّم کا خیال آگیا، یہ خیال بس چند سیکنڈ کا ہوتا ہے اور یہ خیالات خوفِ خُدا کے متعلق پڑھتے رہنے سے، خوفِ خُدا کے متعلق بیانات وغیرہ سنتے رہنے سے حاصِل ہوتے ہیں، پھر جب یہ خیال دِل میں آنے لگ جائیں تو پھر ضروری ہے کہ اِن خیالات کو دِل میں پختہ کیا جائے، مثلاً روزانہ رات کو تنہائی میں بیٹھ کر قبر وآخرت کا تصور کیا جائے، بار بار قبرستان حاضِری دی جائے یُوں بار بار خوفِ خُدا والے خیالات کا تصور جماتے رہنے سے اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم!آہستہ آہستہ یہ خیالات دِل میں پختہ ہو جائیں گے، پھر یہی خوفِ خُدا محض خیال نہیں بلکہ صِفَّت بن جائے گی، یہ خوفِ خُدا کا وہ درجہ ہے جسے امام غزالی رَحمۃُ اللہِ علیہ نے احیاء العلوم میں مقامِ خوف فرمایا ہے۔
اللہ پاک ہمیں قبر و آخرت کی فِکْر اور خوفِ خُدا کی انمول دولت نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖنَ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔