Book Name:Nazool e Quran Ka Aik Maqsid
بال)کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔([1])
پیارے آقا نے جنّت کی خوشخبری سُنائی
قرآنِ کریم میں 28 ویں پارے کی ایک مشہور آیتِ کریمہ ہے، اللہ پاک فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ (پارہ: 28 ،سورۂ تحریم:6)
ترجمہ کَنْزُ العرفان:اے ایمان والو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اُس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔
حضرت عبد العزیز بن ابو رَوَّاد رَحمۃُ اللہِ علیہ سے روایت ہے،فرماتے ہیں:ایک دِن پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام علیہم الرِّضْوَان کے سامنے یہ آیتِ کریمہ تِلاوت فرمائی تو ایک نوجوان یہ آیت سُن کر خوفِ خدا کے سبب غش کھا کر گِرے اور بے ہوش ہو گئے۔ اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم اس نوجوان کے قریب تشریف لے گئے، اس کے دِل پر اپنا پیارا پیارا نورانی ہاتھ رکھا،دِل ابھی دھڑک رہا تھا، مالِک جنّت،قاسِمِ نعمت صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: یَا فَتٰی! قُلْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ یعنی اے نوجوان!کہو:لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ۔اس نوجوان نے کلمہ طیبہ پڑھا۔اس پر آپ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے اسے جنّت کی خوشخبری سُنائی، پھر فرمایا:اے میرے صحابہ!کیا تم نے اللہ پاک کا یہ فرمان نہیں سُنا:([2])
ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ(۱۴) (پارہ:13 ،سورۂ ابراہیم:14)
ترجمہ کَنْزُ العرفان:یہ اس کیلئے ہے جو میرے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اور میری وعید سے خوفزدہ رہے ۔