Book Name:Nazool e Quran Ka Aik Maqsid
کو وہ خواب سُنائیں یا نہ سُنائیں، البتہ ہمارے دِل میں کہیں نہ کہیں اس خواب کا اَثَر رہتا ہے اور اسی اَثَر کی وجہ سے گُنَاہوں کی طرف بڑھتے ہوئے ہمارے قدم لرز رہے ہوتے ہیں۔
اس سے اندازہ لگائیے! جب خوفِ قیامت پر مبنی ایک خواب کا یہ اَثَر ہوتا ہے تو اگر یہ خوفِ خُدا مستقل طَور پر ہمارے دِل میں بیٹھ جائے تو اس کے کتنے فائدے ملیں گے۔
حضرت مالِک بن دینار رَحمۃُ اللہِ علیہ کی توبہ کا واقعہ
حضرت مالِک بن دینار رَحمۃُ اللہِ علیہ بہت بڑے ولئ کامِل ہیں، توبہ کرنے سے پہلے آپ نشے کے عادِی تھے، آپ نے ایک مرتبہ خوفِ قیامت پر مبنی ایک خواب تھا جو آپ کی توبہ کا سبب بنا، آپ نے توبہ کی اور ولایت کے بلند ترین مقام پر پہنچ گئے۔ وہ خواب کیا تھا؟ کتابوں میں لکھا ہے: آپ کی ایک بیٹی تھی، آپ اس سے بہت محبت کیا کرتے تھے۔ آپ کی اس بیٹی کا انتقال ہو گیا۔ بیٹی کے انتقال کے بعد آپ نے ایک دِن خواب دیکھا، کیا دیکھتے ہیں کہ قیامت کا ہوشربا منظر ہے، آپ اپنی قبر سے نکلے،ساتھ ہی ایک بڑا اژدھا بھی آپ کی قبر سے نکلا اور آپ کا پیچھا کرنے لگا،آپ اس سے ڈر کر دوڑنے لگے،وہ اژدھا بھی آپکے پیچھے تیز رینگنے لگا، آپ دوڑتے دوڑتے ايک کمزور سے بوڑھے کے قريب سے گزرے، آپ نے اسے پُکارا کہ مجھے اس اژدھے سے بچاؤ! مگر اس بوڑھے نے جواب دیا: میں کمزور ہوں، میں تمہیں اس سے نہیں بچا سکتا۔حضرت مالِک بن دینار دوڑتے دوڑتے ایک پہاڑ پر چڑھ گئے،اس پر شاميانے اور سائبان لگے ہوئے تھے، اچانک ايک آواز آئی: اس نااميد کو دشمن کے نرغے میں جانے سے پہلے ہی گھير لو! تو بہت سے بچوں نے انہيں گھیر لیاجن میں آپ کی وہ بيٹی بھی تھی، وہ آپ کے پاس آئی، اس نے اژدھا کو مارا تو وہ بھاگ گيا اور پھر وہ