Nazool e Quran Ka Aik Maqsid

Book Name:Nazool e Quran Ka Aik Maqsid

کرنے کے لئے دِلوں میں خوفِ خُدا بڑھاتا ہے، پھر جب دِلوں پر خوفِ خُدا غالِب آ جاتا ہے تو معاشرہ خود بہ خود درست رستوں کا مُسَافِر بن جاتا ہے۔

اگر میں بادشاہ ہوتا تو...!!

آج قرآنِ کریم کی اس حکمت کو سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔یہ واقعی حقیقت ہے؛خوفِ خُدا انسان کو اندر سے سُدھار دیتا ہے۔حضرت اَبُو الْجَوْزَاء  رَحمۃُ اللہِ علیہ  فرمایا کرتے تھے: اگر میں بادشاہ بن گیا تو میں راستوں پر بڑے بڑے مینار بنواؤں گااور ان کے اُوپر ایک ایک شخص کھڑا کر دوں گا اور ان کی یہ ڈیوٹی لگا دُوں گا کہ بس ہر وقت یہی پُکارتے رہے: اے لوگو! جہنّم۔ اے لوگو! جہنّم۔ اے لوگو! جہنّم۔([1])

گویا حضرت اَبُو الْجَوْزَاء  رَحمۃُ اللہِ علیہ  یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اگر لوگوں کے دِل میں جہنّم کا خوف پیدا کر دیا جائے تو صِرْف ایک فرد نہیں بلکہ پُوری قوم سیدھے راستے کی مُسَافِر بن سکتی ہے۔

ہم کبھی اپنے آپ پر ہی غور کر لیں؛ کتنی بار ایسا ہوتا ہے کہ ذَرَّہ برابر خوفِ خُدا ہمیں لرزا کر رکھ دیتا ہے اور ہم گُنَاہوں کو بھول کر نیک رستے پر آ جاتے ہیں۔غور کر لیں *کیا جنازہ دیکھ کر زبان پر کلمہ شریف جاری نہیں ہو جاتا*اچانک زلزلہ آ جائے تو کیا لوگ گُنَاہوں کو چھوڑ کر کلمہ طیبہ کا وِرْد شروع نہیں کر دیتے*بلکہ حقیقت میں نہیں، صِرْف خواب میں کبھی قبر دیکھ لیں، قبر کا کوئی ہولناک منظر دیکھ لیں، قیامت کی ہولناکی سے متعلق کوئی خواب دیکھ لیں تو کئی دِن تک وہ منظر آنکھوں کے سامنے سے ہٹتا ہی نہیں ہے، ہم کسی


 

 



[1]... مجموع رسائل ابنِ رجب الحنبلی ،التخویف من النار،جلد:4 ،صفحہ:103۔