Book Name:Nazool e Quran Ka Aik Maqsid
آپ کی گود میں بیٹھ گئی، اس نے آپ کو بتایا کہ بابا جان! وہ اژدھا اَصْل میں آپ کے بُرے اَعْمال تھے اور وہ بوڑھا جس کے قریب سے آپ گزرے، وہ آپ کا اچھا عمل تھا، آپ نے بُرے اعمال کے ذریعے اسے اتنا کمزور کر دیا کہ اس میں آپ کے بُرے اعمال کا مقابلہ کرنے کی طاقت ہی نہیں رہی، لہٰذا آپ اللہ پاک کی بارگاہ میں توبہ کریں اور خود کو ہلاکت سے بچانے کی کوشش کریں۔
یہ خواب دیکھنے کے بعد حضرت مالِک بن دینار رَحمۃُ اللہِ علیہ نیند سے بیدار ہوئے تو آپ نے سچّی پکّی توبہ کی اور نیک اَعْمَال شروع کر دئیے،یہاں تک کہ اللہ پاک نے آپ کو وِلایت کے بلند ترین مقام پر پہنچا دیا۔([1])
اللہُ اکبر!اے عاشقانِ رسول! آپ نےسناکہ لمحے بھر کا خوفِ قیامت؛جو ایک خواب دیکھنے کے ذریعے دِل میں آیا، اس خوفِ قیامت نے حضرت مالِک بن دینار رَحمۃُ اللہِ علیہ کی زندگی بدل کر رکھ دی۔ یہی خوفِ قیامت دِلوں میں بڑھانے کے لئے قرآنِ کریم نازِل ہوا،اندازہ لگائیے! اگر ہمیں یہ خوف نصیب ہو جائے توہمارے جینے کا رنگ ڈھنگ ہی بدل جائے، ہم نمازوں کے پابند،گُنَاہوں سے بیزار اور نیک اَعْمَال کے پیروکار بن جائیں۔ کاش! ہمیں صحیح معنوں میں خوفِ قیامت نصیب ہو جائے۔
خوفِ خُدا اِسْلام کی بنیادی تعلیم ہے
پیارے اسلامی بھائیو! خوفِ خُدا،خوفِ قیامت،خوفِ جہنّم کی بہت برکتیں ہیں، یقین