Book Name:Nazool e Quran Ka Aik Maqsid
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
فرمانِ مصطفےٰ صَلّی اللہُ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم:اَفْضَلُ الْعَمَلِ اَلنِّيَّۃُ الصَّادِقَۃُ سچی نیت سب سے افضل عمل ہے۔ ([1]) اے عاشقانِ رسول! ہر کام سے پہلے اچھی اچھی نیتیں کرنے کی عادت بنائیے کہ اچھی نیت بندے کو جنت میں داخِل کر دیتی ہے۔ بیان سننے سے پہلے بھی اچھی اچھی نیتیں کر لیجئے! مثلاً نیت کیجئے! *عِلْم حاصل کرنے کے لئے پورا بیان سُنوں گا * با اَدب بیٹھوں گا *دورانِ بیان سُستی سے بچوں گا *اپنی اِصْلاح کے لئے بیان سُنوں گا *جو سُنوں گا دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
سورۂ قدر کا شانِ نزول
تفسیرِ عزیزی میں ہے:ایک بار ہمارے پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے سابقہ اُمَّتوں اور ان کی لمبی لمبی عمروں کے متعلق غور فرمایا اور اپنی اُمَّت کی تھوڑی عمروں کو ملاحظہ فرمایا تو غمخوارِ اُمَّت، تاجدارِ رسالت صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کا مبارک دِل شفقت سے بھر آیا، آپ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم یہ سوچ کر غمگین ہو گئے کہ میرے اُمّتی اگر ساری زِندگی خوب خوب نیکیاں کریں پھر بھی سابقہ اُمّتوں کی برابری نہیں کر سکتے۔
اِدھر محبوبِ رَبِّ اکبر، شاہِ خشک و تَر صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کا مبارک دِل رنجیدہ ہوا، اُدھر اللہ پاک کی رَحْمت جوش پرآئی اور اللہ پاک نے اپنے پیارے حبیب صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم