Nazool e Quran Ka Aik Maqsid

Book Name:Nazool e Quran Ka Aik Maqsid

اس کی شفاعت فرمائے گا اور اسے جنّت میں پہنچا دے گا۔

لہٰذا مسلمان ہو کر بھی جو بندہ قرآنِ کریم کی تلاوت نہیں کرتا، اللہ پاک کی اس پاکیزہ کتاب سے دُور ہے، اسے چاہئے کہ قرآنِ کریم کے ساتھ اپنا رشتہ مضبوط کرے اور روزانہ پابندی کے ساتھ قرآنِ کریم کی تِلاوت کیا کرے۔

تلاوت کرنے والوں کے لئے غور طلب بات

اے عاشقان رسول!ہم میں سے جو لوگ تِلاوت کرتے ہیں اور ہم میں سے جو تِلاوت نہیں کرتے، وہ جب تِلاوت کرنے والے بن جائیں تو پھر ہم سب کے لئے ایک غور طلب بات ہے؛وہ یہ کہ قرآنِ کریم نازِل ہونے کا ایک اَہم اور بنیادی مقصد ہے کہ اس کتاب کے ذریعے دِلوں میں قیامت کا خوف بڑھایا جائے، اب سُوال یہ ہے کہ ہم تِلاوت تو کرتے ہیں،حفّاظِ کرام نے حِفْظ بھی کر لیا،قاری صاحِب قرآنِ کریم پڑھا بھی رہے ہیں، ہم لوگ اپنے اپنے طَور پر تِلاوت بھی کرتے ہیں،سوچنا یہ ہے کہ کیا ہم قرآنِ کریم کے ذریعے سے اپنے دِل میں قیامت کا خوف بڑھانے میں بھی کامیاب ہو رہے ہیں یا نہیں؟ جب ہم تِلاوت کرتے ہیں تو کیا ہمارا دِل خوفِ خُدا سے کانپتا بھی ہے یا نہیں کانپتا؟ کیا آنکھوں سے آنسو بھی نکلتے ہیں یا نہیں نکلتے؟ بارگاہِ اِلٰہی میں پیشی کے خوف سے ہم لرز جاتے ہیں یا نہیں لرزتے ! اگر قرآنِ کریم کے ذریعے بھی ہمارے دِل میں قیامت کا، بارگاہِ اِلٰہی میں حاضِری کا خوف نہیں بڑھ رہا تو یہ بھی ایک بڑی کمی ہے،قرآنِ کریم کے نازِل ہونے کا ایک بنیادی مقصد دِل میں خوفِ قیامت بڑھانا ہے، اگر ہم یہ مقصد ہی حاصِل نہیں کر پا رہے تو یہ غور کا مقام ہے، آخر قرآنِ کریم کے ذریعے بھی ہمارے دِل میں خوفِ خُدا کیوں نہیں بڑھ رہا؟