Book Name:Nazool e Quran Ka Aik Maqsid
تفسیر صراط الجنان میں اس آیتِ کریمہ کے تحت ہے:یعنی اے حبیب صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم !ہم نے آپ کی طرف عربی قرآن کی وحی بھیجی تا کہ آپ (بطورِ خاص)مرکزی شہر مکہ مکرمہ اور اس کے ارد گرد رہنے والوں کو ڈرسنائیں اور انہیں قیامت کے دن سے ڈرائیں جس میں اللہ پاک اَوّلین و آخرین اور سب آسمان و زمین والوں کو جمع فرمائے گا اور اس میں کچھ شک نہیں ، اس دن جمع ہونے کے بعد پھر سب اس طرح علیحدہ علیحدہ ہوں گے کہ ان میں سے ایک گروہ جنت میں جائے گا اور ایک گروہ دوزخ میں داخل ہو جائے گا۔([1])
قرآنِ کریم ڈر سُنانے کے لئے نازِل کیا گیا
پیارے اسلامی بھائیو!غور فرمائیے!اس آیتِ کریمہ میں واضِح طَور پر فرما دیا گیا کہ اے پیارے محبوب صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم !ہم نے آپ کی طرف قرآنِ کریم نازِل فرمایا، جو عربی زبان میں ہے اور یہ مبارک کلام قرآنِ کریم نازِل کیوں کیا گیا؟اس لئے تاکہ آپ اس مبارک قرآن کے ذریعے اَہْلِ مکہ کو، اس کے اردگرد کے شہروں کو ڈرائیں، کس چیز سے ڈرائیں؟ فرمایا:
َ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِؕ- (پارہ:25 ، سورۂ شوریٰ :7)
ترجمہ کَنْزُ الایمان:اکٹھے ہونے کے دن سے جس میں کچھ شک نہیں ۔
جمع ہونے کے دِن، وہ دِن جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے، یہ کونسا دِن ہے؟ قیامت کا دِن ؛وہ دِن جس میں سب اگلوں پچھلوں کو جمع کر لیا جائے گا،سب آسمانوں اور