Nazool e Quran Ka Aik Maqsid

Book Name:Nazool e Quran Ka Aik Maqsid

تلاوت فرمائی:

وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ (پارہ:28،سورۂ تحریم:6)

تَرجَمہ کَنْزُ الْعِرْفان:جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔

پھر ارشاد فرمایا:جہنم کی آگ ہزار برس تک بھڑکائی گئی تو سُرخ ہو گئی، پھر ہزار برس تک بھڑکائی گئی تو سفید ہو گئی، پھر ہزار برس تک بھڑکائی گئی تو سیا ہ ہو گئی، اب نری سیاہ ہے،یہ کبھی نہیں بجھے گی، یہ سن کر ایک حبشی رونے لگا، حضرت جبریل  علیہ السّلام  تشریف لائے اور پوچھا یہ کون ہے؟ اللہ پاک  کے آخری نبی، محمدِ عربی  صَلَّی اللہُ عَلیہ وَآلہٖ و َسَلَّم  نے فرمایا:حبشہ کا رہنے والا ہے،اور آپ نے اس کے رونے کو پسند فرمایا۔ جبریل امین  علیہ السّلام نے فرمایا: اللہ پاک فرماتا ہے:مجھے اپنے عزت و جلال کی قسم! میرا جوبندہ دنیا میں میرے خوف سے روئے گا، میں اسے جنت میں ضرور ہنساؤں گا۔([1])

(3):رسولِ اکرم ،نُورِ مُجَسَّم  صَلَّی اللہُ عَلیہ وَآلہٖ و َسَلَّم  نے فرمایا:جب مؤمن کا دل اللہ پاک کے خوف سے لرزتا ہے تو اس کی خطائیں اس طرح جھڑتی ہیں جیسے خشک درخت سے اس کے پتے جھڑتے ہیں۔

خوفِ خدا ہدایت کا ذریعہ ہے

پیارے اسلامی بھائیو!دِلوں میں خوفِ خُدا،خوفِ آخرت بڑھانا قرآنِ کریم کے بنیادی مقاصِد میں سے ایک اَہَم مقصد ہے۔یہ بھی قرآنِ کریم کی نِرالی حکمت ہے کہ قرآنِ کریم زِندگی بدلنے، ایک فرد، ایک معاشرے اور ایک قوم میں مثبت انقلاب برپا


 

 



[1]... شعب الایمان،باب فی الخوف من اللہ ،جلد:1،صفحہ:489،حدیث:799۔