Book Name:Quran Karim Ki 3 Shanain
الٓمّٓۚ(۱) تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ(۲) (پارہ:21،لقمان:1و2)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: الٓمّٓ، یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں۔
یہ قرآنِ کریم کی پہلی شان ہے کہ قرآن کتابِ حکمت ہے۔ اُدھر نَضر بن حارِث جو قصّے کہانیاں لایا ہے، وہ لَہْوَ الْحَدِیْث (فضولیات ) ہیں، اِدھرقرآنِ کریم کی یہ شان ہے کہ اس کے ہر ہر لفظ بلکہ ہر ہر حَرْف میں حکمت ہی حکمت ہے۔ مزید فرمایا:
هُدًى (پارہ:21،لقمان:3)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان:ہدایت۔
یہ دوسری شان ہے کہ قرآنِ کریم صِرْف کتابِ حکمت ہی نہیں بلکہ کتابِ ہدایت بھی ہے، نضر بن حارِث کی کہانیوں کی تاثِیْر یہ ہے کہ انہیں پڑھ کر بندہ بھٹک جاتا ہے، اِدھر قرآنِ کریم کی یہ شان ہے کہ بندہ اس کی تِلاوت کرے، چاہے سمجھ کر کرتا ہو یا بغیر سمجھے کرتا ہو، عربی ہو یا عجمی ہو، عالِم ہو یا بےپڑھا ہو، بَس قرآنِ کریم کھولے، اَدَب کے ساتھ اس کے اَلْفاظ مبارَک اپنی زبان سے ادا کرتا چلا جائے، اس کے ان الفاظ کی بھی یہ تاثِیر ہے کہ دِل میں ہدایتیں اُتار دیتا ہے۔
مزید فرمایا:
وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ(۳) (پارہ:21،لقمان:3)
معرفۃ القرآن:اور رحمت (ہیں) نیکوں کیلئے۔
یہ قرآنِ کریم کی تیسری شان ہے کہ یہ وہ عظیم کتاب ہے، جو اَوَّل تا آخر رحمت ہی رحمت ہے، دُنیا کی کوئی ایسی کتاب نہیں ہے، جس کے ایک ایک حرف پر 10، 10 نیکیاں ملتی ہوں،([1]) یہ صِرْف قرآنِ کریم ہی کی شان ہے کہ بندہ جب قرآنِ کریم کھول کر بیٹھتا