Book Name:Quran Karim Ki 3 Shanain
میں نے ابتدا میں پارہ: 21، سُورۂ لُقْمَان کی پہلی 3آیات تِلاوت کرنے کی سَعَادت حاصِل کی۔ اِن آیات کا شانِ نزول کچھ یُوں ہے کہ ایک غیر مُسلم تھا: نَضَر بن حَارِث۔ مکہ مکرّمہ کا رہنے والا تھا۔ ایک مرتبہ یہ تِجارت کے لئے حِیَرہ (کُوفہ سے 3میل کی دوری پر واقع ایک شہر ہے وہاں) گیا تو وہاں سے کہانیوں کی کتابیں لے آیا۔ مکہ مکرّمہ آ کر لوگوں کو وہ قصّے کہانیاں (Stories) سُنانے لگا اور یہ بَدبَخت کہا کرتا تھا: مُحَمَّد ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ) بھی تمہیں (قومِ)عَاد اور (قومِ)ثَمُود کے واقعات سُناتے ہیں تو میں تمہیں رُسْتم، اِسْفِنْدیار(وغیرہ ایران کے بادشاہوں) کے قصّے سُناتا ہوں۔
یعنی اس بَدبَخت نے اُن جھوٹے سچّے قصّوں کو قرآنِ کریم کے برابر ٹھہرایا۔ اس کی مَذَمَّت (یعنی بُرائی) میں سُورۂ لقمان کی ابتدائی آیات نازِل ہوئیں،([1]) اللہ پاک نے فرمایا:
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ ﳓ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًاؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ(۶) (پارہ:21، لقمان:6)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں تاکہ بغیر سمجھے الله کی راہ سے بہکادیں اورانہیں ہنسی مذاق بنالیں، ان کے لیے ذلّت کا عذاب ہے۔
یعنی نَضَر بن حَارِث جو قصّوں کی کتابیں اُٹھائے پِھرتا ہے، ان میں بہت سِی خرابیاں ہیں، (1): پہلی خرابی تو یہ کہ یہ لَہْوَ الْحَدِیْث (یعنی بےمقصد کہانیاں اور کھیل کی باتیں) ہیں (2):دوسری خرابی یہ کہ اِن کو پڑھنے سُننے والے اللہ پاک کے رستے سے، نیکی کے رستے سے دُور ہو جاتے ہیں۔
اب اس کے مُقَابلے میں قرآنِ کریم کی کیا شان ہے؟ اللہ پاک نے فرمایا: