حضرتِ موسیٰ علیہ السلام کے معجزات و عجائبات
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن

سلسلہ:معجزاتِ انبیا

موضوع:حضرت موسیٰ  علیہ السلام کے معجزات و عجائبات (قسط3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گزشتہ سے پیوستہ:حضرت موسیٰ  علیہ السلام کے معجزات و عجائبات کا ذکر جاری ہے۔پچھلی قسط میں حضرت موسیٰ  علیہ السلام کا فرعون کے محل میں پہنچنے تک ذکر ہوا،اس قسط میں اس کے بعد کے عجائبات ذکر کئے جائیں گے:

فرعون کے محل میں پرورش کے دوران ظاہر ہونے والے عجائبات

فرعون کے منہ پر طمانچہ

بچپن میں فرعون کے محل میں قیام کے دوران ایک عجیب واقعہ پیش آیا کہ ایک دن فرعون نے آپ کو گود میں اٹھایا تو آپ نے اس کی داڑھی پکڑ کر زور سے  اس کے منہ پر طمانچہ مار دیا، اس پر اسے بہت غصہ آیا اور اس نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا، یہ دیکھ کر حضرت آسیہ بولیں:اے بادشاہ!یہ ابھی بچہ ہے اسے کیا سمجھ؟ اگر تو تجربہ کرنا چاہے تو کر لے۔چنانچہ  اس تجربہ کے لئے ایک طشت میں آگ کے انگارے اور ایک طشت میں سرخ یاقوت آپ کے سامنے پیش کیے گئے۔آپ نے یاقوت لینا چاہا مگر فرشتے نے آپ کا ہاتھ انگارے پر رکھ دیا اور وہ انگارا آپ کے منہ میں دے دیا جس سے زبان مبارک جل گئی اور لکنت پیدا ہو گئی۔([1])

ایک روایت میں یہ واقعہ یوں بھی مذکور ہے کہ ایک دن آپ فرعون کے پاس چھوٹی ڈنڈی سے کھیل رہے تھے، اچانک آپ نے وہ ڈنڈی فرعون کے سر پر دے ماری، فرعون غضب ناک ہوا اور آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا تو حضرت آسیہ نے کہا:اے بادشاہ!غصہ مت کر اور خود کو بدبخت نہ کر!یہ تو چھوٹا بچہ ہے اگر تو چاہے تو اس کو آزما لے، میں تھال میں سونا اور انگارا رکھ دیتی ہوں تو دیکھ لے یہ کس کو اٹھاتا ہے!فرعون اس کے لیے تیار ہو گیا، جب حضرت موسی  علیہ السلام نے سونے کی طرف ہاتھ بڑھایا تو فرشتے نے ان کا ہاتھ پکڑ کر انگارے کی طرف کر دیا، آپ نے وہ انگارا اٹھا کر منہ میں رکھ لیا جب جلن محسوس ہوئی تو اسے پھینک دیا، یوں فرعون اپنے ناپاک ارادے سے باز رہا۔([2]) مگر اس نے آپ کو اپنے گھر اور شہر سے نکال دیا۔چنانچہ آپ جوان ہونے تک اس شہر میں داخل نہ ہوئے۔([3]) شاید یہی وجہ ہے کہ فرعون کے محل میں قیام کے دوران سے آپ کے جوان ہونے تک سوائے اس کے اور کسی واقعہ کا ذکر نہیں ملتا۔

فرعون سے تعلق ختم:حضرت موسیٰ  علیہ السلام کی عمر 30سال سے زیادہ ہو گئی تو اللہ پاک نے آپ کو علم و حکمت سے نوازا۔چنانچہ آپ نے دیکھا کہ فرعون خدا بن کر بیٹھا ہے اور لوگوں سے اپنی عبادت کرواتا ہے،تو آپ نے اپنے علم و حکمت کی روشنی میں حق کو پھیلانا اور فرعونیوں کی گمراہیوں کا رد کرنا شروع کر دیا،جس کے نتیجے میں تعلق توڑنے تک کی نوبت آ پہنچی اور آپ کو مجرم اور باغی سمجھا جانے لگا،فرعونی آپ کی تلاش میں تھے،ان کے شر سے بچنے کے لیے آپ چھپ گئے اور اگر کسی ضروری کام سے بستی میں آنا پڑتا تو ایسے وقت شہر میں داخل ہوتے جب وہاں کے باشندے غفلت میں ہوتے۔([4])

ایک گھونسے سے قبطی کی ہلاکت:ایک مرتبہ آپ شہر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ دو شخص لڑ رہے ہیں، ان میں سے ایک بنی اسرائیل سے اور دوسرا فرعون کی قوم قبط سے تھا، قبطی فرعون کا نانبائی تھا اور وہ اسرائیلی کو اس بات پر مجبور کر رہا تھا کہ وہ لکڑیوں کا انبار لاد کر فرعون کے کچن میں لے جائے، اسرائیلی نے جب آپ کو دیکھا تو مدد کے لیے پکارا، آپ نے قبطی کو سمجھایا کہ اسے چھوڑ دے مگر وہ نہ مانا اور آپ سے بھی بد زبانی کرنے لگا، آپ چونکہ بھاری قد و قامت والے اور بہت طاقتور تھے لہٰذا بیچ بچاؤ کراتے ہوئے آپ نے بھی ایک گھونسا مار دیا جس سے وہ قبطی فوراً ہی مر گیا، حالانکہ آپ کا ارادہ قتل کا نہیں تھا، بہرحال آپ نے اسے ریت میں دفن کر دیا اور اسے ایک شیطانی عمل قرار دیا۔([5])

عصمتِ انبیا سے متعلق ہمارا عقیدہ:اعلیٰ حضرت امامِ اہل ِسنت  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:مسلمان ہمیشہ یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کبیرہ گناہوں سے مطلقاً اور گناہِ صغیرہ کے عمداً ارتکاب،اور ہر ایسے امر سے جو خلق کے لیے باعثِ نفرت ہو اور مخلوقِ خدا اِن کے باعث اُن سے دور بھاگے،نیز ایسے افعال سے جو وجاہت و مروت اور معززین کی شان و مرتبہ کے خلاف ہیں قبلِ نبوت اور بعدِ نبوت بِالاجماع معصوم ہیں۔([6])لہٰذا مذکورہ واقعے کو عِصمتِ انبیا کے خلاف ہرگز قرار نہیں دیا جا سکتا، جیسا کہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی تفسیر مظہری میں فرماتے ہیں:حضرت موسیٰ  علیہ السلام کا قبطی کو گھونسا مارنا اسے ہلاک کرنے کے ارادے سے نہ تھا بلکہ اسے ادب و اخلاق سکھانے کے لیے تھا اور اس میں کوئی حرج نہیں،رہی بات یہ کہ آپ نے اسے شیطانی عمل کیوں قرار دیا؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس وقت آپ کو کافروں کے قتل کرنے کا حکم نہیں تھا اور ان لوگوں کے اندر آپ محفوظ بھی تھے،لہٰذا ان میں سے کسی کو اچانک قتل کر دینا آپ کے لئے جائز نہ تھا، لیکن یہ قتل چونکہ خطاءً تھا،جان بوجھ کر نہ تھا اس لئے  حضرت موسیٰ نے اس عمل کو شیطانی حرکت شمار کیا اور ظلم سمجھا اور پھر استغفار کیا،نیز حضرت موسیٰ  علیہ السلام کا بارگاہِ الٰہی میں یہ عرض کرنا:اے میرے رب!میں نے اپنی جان پر ظلم کیا!یہ بطورِ عاجزی و انکساری تھا، اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ آپ مقرب بندوں میں سے ہیں اور اہلِ قرب کی یہی حالت ہوتی ہے کہ وہ حقیر سی لغزش کو بھی عظیم گناہ جانتے ہیں۔کتنی خوبصورت کہاوت ہے کہ حَسَنَاتُ الْاَبْرَارِ سَیِّئَاتُ الْمُقَرَّبِیْنَ یعنی نیکو کاروں کی نیکیاں بھی مقربین کے حق میں گناہ شمار ہوتی ہیں،لہٰذا اگر ان سے ادنیٰ سی غلطی بھی ہو جائے تو وہ اس کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں اور پھر استغفار کرتے ہیں۔([7])

بہرحال حضرت موسیٰ  علیہ السلام نے شہر میں ڈرتے ہوئے رات گزاری کہ نجانے اس معاملے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے، وہاں فرعون کو بھی اطلاع مل چکی تھی کہ بنی اسرائیل کے کسی شخص نے ہمارا آدمی مار ڈالا ہے، فرعون نے قاتل اور گواہوں کو تلاش کرنے کا حکم دیا، فرعونیوں نے تلاش کیا مگر کوئی ثبوت نہ ملا، دوسرے دن جب حضرت موسیٰ  علیہ السلام نکلے تو دیکھا کہ وہی اسرائیلی پھر کسی فرعونی سے لڑ رہا ہے، اس نے آپ سے مدد چاہی،آپ نے فرمایا:

اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ(۱۸) (پ20، القصص: 18)

ترجمہ:بیشک تو ضرورکھلا گمراہ ہے۔

یعنی تو روز لوگوں سے لڑتا ہے، خود کو بھی مصیبت میں ڈالتا ہے اور اپنے مددگاروں کو بھی، پھر آپ کو اس پر رحم آیا اور آپ اسے دوبارہ فرعونی سے بچانے کے لیے آگے بڑھے تو اسرائیلی سمجھا کہ شاید آپ مجھ سے خفا ہیں اور مجھے پکڑنا چاہتے ہیں، لہٰذا وہ بولا:

یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ ﳓ (پ20،القصص:19)

ترجمہ:اے موسیٰ!کیا تم مجھے ویسا ہی قتل کرنا چاہتے ہو جیسا تم نے کل ایک شخص کو قتل کر دیا۔

فرعونی نے یہ سنا تو فوراً جا کر فرعون کو اطلاع دی کہ کل کے مقتول کے قاتل حضرت موسیٰ ہیں، فرعونی جو پہلے ہی آپ کے تعاقب میں تھے، یہ سن کر مزید برہم ہو گئے اور فرعون نے آپ کے قتل کا حکم دے دیا۔([8])

جب فرعون کے اس حکم کے متعلق فرعون کے چچا زاد بھائی حزقیل بن صبورا ([9])کو معلوم ہوا تو اس نے حضرت موسیٰ سے بھاگ جانے کے لئے کہا، اسے قرآنِ کریم نے کچھ یوں بیان کیا ہے:

اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُ جْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ(۲۰) (پ 20، القصص:20)

ترجمہ:بیشک دربار والے آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں کہ آپ کوقتل کر دیں تو آپ نکل جائیں۔

بیشک میں آپ کے خیرخواہوں میں سے ہوں۔چنانچہ آپ نے مدین کی طرف ہجرت کا ارادہ فرمایا، مدین کا راستہ آپ کو معلوم تھا نہ پاس کوئی سواری تھی اور نہ سامانِ سفر۔راستے میں درختوں کے پتوں اور زمین کے سبزے کے سوا خوراک کی اور کوئی چیز نہ ملتی تھی، جب آپ نے مدین کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو کہا:

عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ(۲۲) (پ20، القصص: 22)

ترجمہ:عنقریب میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے گا۔چنانچہ اللہ پاک نے ایک فرشتہ بھیجا جو آپ کو مدین تک لے گیا۔([10])

دخترانِ شعیب کی مدد:جب حضرت موسیٰ  علیہ السلام مصر سے ہجرت کر کے تھکے ماندے مدین شہر کے باہر ایک کنویں  پر پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں لوگ اپنے جانوروں  کو پانی پلا رہے ہیں مگر دو خواتین  ایک طرف کھڑی ہو کر اپنے ریوڑ کو سنبھال رہی ہیں تاکہ بھیڑ بکریاں منتشر نہ  ہوں،آپ نے ان سے یوں دور کھڑے ہونے کی وجہ پوچھی تو وہ بولیں:ہمارے والد بوڑھے ہیں، وہ یہ کام نہیں کر سکتے اس لیے جانوروں کو پانی پلانے ہمیں آنا پڑتا ہے، مگر ان لوگوں کی بھیڑ میں گھس کر اپنے جانوروں کو پانی پلانا ہمارے لئے ممکن نہیں، لہٰذا ہم اس انتظار میں ہیں  کہ سب لوگ اپنے جانوروں  کو پانی پلا کر چلے جائیں تو ہم بھی اپنے ریوڑ کو پانی پلائیں۔چنانچہ حضرت موسیٰ  علیہ السلام  کی طبعی شرافت گوارا نہ کر سکی کہ عورتیں یونہی کھڑی رہیں اور دوسرے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلاتے رہیں۔لہٰذا قریب ہی دوسرا کنواں موجود تھا جس پر بہت بھاری پتھر رکھا ہوا تھا، اسے بہت سارے آدمی مل کر ہی ہٹا سکتے تھے مگر آپ نے اکیلے ہی اسے ہٹایا اور ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا۔

یہ دونوں خواتین اللہ کے پیارے نبی حضرت شعیب  علیہ السلام کی صاحبزادیاں تھیں،جب وہ گھر پہنچیں اور انہوں نے اپنے والد کو حضرت موسیٰ  علیہ السلام کی ملاقات اور ان کی شرافت و احسان کے بارے میں بتایا تو حضرت شعیب  علیہ السلام نے انہیں بلانے کے لیے اپنی ایک بیٹی کو بھیجا جو اپنا چہرہ آستین سے ڈھانپے، جسم چھپائے شرم سے چلتی ہوئی آئیں (ان کا یوں آنا اور شرم و حیا اور پردے کا خیال رکھنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ پردے کا اہتمام پہلے زمانے میں بھی شریف لوگوں کا خاصہ رہا ہے) اور آپ کو اپنے والد کا پیغام پہنچایا۔آپ حضرت شعیب کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے یہاں کھانا تناول فرمایا، ان کو اپنی قوم کے احوال سنائے اور ایک طویل عرصے تک ان کی صحبت میں رہے، پھر ایک معاہدے کی تکمیل کے بعد حضرت شعیب نے اپنی ایک صاحبزادی صفورا کا نکاح آپ سے کروا دیا۔([11])

(حضرت صفورا کا تفصیلی ذکر پڑھنے کے لیے ماہنامہ خواتین کے ستمبر 2022 کے شمارہ میں سلسلہ ازواجِ انبیا کے مضمون کا مطالعہ کیجیے)

حضرت شعیب  علیہ السلام نے جس معاہدے پر اپنی بیٹی کا نکاح کیا وہ یہ تھا کہ حضرت موسیٰ  علیہ السلام 8 سال تک ان کے پاس ملازمت کریں اور ان کی بکریاں چرایا کریں گے، جب یہ معاہدہ طے ہوچکا تو حضرت شعیب نے اپنی صاحبزادی کو حکم دیا کہ وہ حضرت موسیٰ کو ایک عصا دیں جس سے وہ بکریوں کی نگہبانی کریں، حضرت شعیب کے پاس کئی انبیائے کرام کے عصا موجود تھے،صاحبزادی کا ہاتھ حضرت آدم  علیہ السلام کے عصا پر پڑا جو آپ جنت سے اپنے ساتھ لائے تھے اور وہ دیگر انبیائے کرام کی وراثت  میں ہوتا ہوا حضرت شعیب تک پہنچا تھا، حضرت شعیب نے یہ عصا حضرت موسیٰ کو دے دیا۔([12])

(یہ سلسلہ جاری ہے اور  ان شاء اللہ  اگلی قسطوں میں حضرت موسیٰ  علیہ السلام  کے نبی بننے کے بعد کے معجزات و عجائبات بیان ہوں گے۔)



[1] تفسیر  بغوی، 3/182

[2] مستدرک، 3/458،حدیث:4150

[3] تفسیر طبری،10/43،رقم:27254

[4] تفسیر نسفی،ص864،863ماخوذاً

[5] تفسیر خازن،3/427

[6]فتاویٰ رضویہ،29/360

[7] تفسیر مظہری،7/159ملخصاً

[8] تفسیر خازن،3/428مفہوماً

[9] تفسیر قرطبی،7/201

[10] تفسیر جلالین،ص328

[11] تفسیر خازن،  3/429، 430ملخصاً

[12] تفسیر خازن، 3/431


Share