سلسلہ:بزرگ خواتین کے سبق آموز واقعات
موضوع:اعتکاف
*اُمِّ سلمہ عطاریہ مدنیہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُمُّ المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ رسولِ اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم رمضانُ المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف فرمایا کرتے یہاں تک کہ اللہ پاک نے آپ کو وفات(ظاہری)عطا فرمائی۔پھر آپ کے بعد آپ کی پاک بیویاں اعتکاف کرتی رہیں۔([1])
یقیناً ہر مسلمان خاتون اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم اور آپ کی پاک بیویوں سے محبت کا دعویٰ کرتی ہے؛ لہٰذا ہمیں بھی حضور کی سنت اور آپ کی پاک بیویوں کے طریقے پر عمل کرتے ہوئے اعتکاف کی سعادت ضرور حاصل کرنی چاہیے۔خواتین کو چونکہ مسجدِ بَیت میں اعتکاف کرنا ہوتا ہے جس میں ایک طرح سے قبر کی بھی یاد ہے کہ ہر طرح کی رونق سے کٹ کر دس دن کونے میں بیٹھنا ناگوار گزر رہا ہے تو ناراضیِ خدا ومصطفےٰ کی صورت میں تنہا قبر میں ایک طویل عرصہ کس طرح گزارا ہوگا!کیا عجب کہ اللہ پاک اس اعتکاف کی برکت اور اپنی رحمت سے ہماری قبر تا حدِ نظر وسیع کر کے نورِ مصطفےٰ سے روشن فرما دے۔لہٰذا ہر عورت کو زندگی میں کم از کم ایک بار تو یہ سعادت حاصل کر ہی لینا چاہیے۔
البتہ!یہ یاد رہے کہ اعتکاف خواہ واجب ہو یا سنت و نفل، خواتین کو مسجدِ بیت ہی میں کرنا ہوتا ہے یعنی گھرمیں جو جگہ نماز کے لیے مقرر ہو اسے مسجدُ البیت کہتے ہیں۔([2]) عورت کے لئے یہ مستحب بھی ہے کہ گھر میں نماز پڑھنے کے لئے کوئی جگہ مقرر کر لے اور چاہیے کہ اس جگہ کو پاک صاف رکھے اور بہتر یہ کہ اس جگہ کو چبوترہ وغیرہ کی طرح بلند کر لے۔([3]) اگر عورت نے نماز کے لئے کوئی جگہ مقرر نہیں کر رکھی تو گھر میں اعتکاف نہیں کر سکتی، ہاں اگر اُس وقت یعنی جب اعتکاف کا ارادہ کیا، کسی جگہ کو نماز کے لئے خاص کر لیا تو اب اس جگہ اعتکاف کر سکتی ہے۔([4]) نیز مسجد ِ بیت کے لئے مکمل کمرہ مخصوص کر لینا ضروری نہیں، کسی کمرے میں تھوڑی سی جگہ بھی اگر فکس کر لی تو کافی ہے، اس کی الگ سے تعمیر وغیرہ بھی ضروری نہیں۔([5]) نیز کرائے کے مکان میں بھی اگر نماز کے لیے کسی حصے کو مخصوص کرنے کی نیت کی تو یہ جگہ اُس کے لیے مسجد ِ بیت ہو گئی، وہاں اعتکاف کر سکتی ہے۔مسجد ِ بیت کے لیے ہر ایک کو الگ الگ نیت کرنے کی حاجت نہیں ہے بلکہ جس جگہ کو گھر والوں نے نماز وغیرہ کے لیے مخصوص کر لیا اور اسے پاک صاف رکھا جاتا ہے اور اسے مسجد ِ بیت سمجھا جاتا ہے تو وہ سبھی کے حق میں مسجدِ بیت ہو جائے گی اور یہاں جب بھی کوئی عورت جائے تو نفل اعتکاف کی نیت کر لے، جب تک وہاں ہو گی ان شاء اللہ نفل اعتکاف کا ثواب ملتا رہے گا۔فتاویٰ شامی میں ہے:اگر عورت مسجد ِ بیت سے نکلے اگرچہ اپنے گھر کی طرف تو اس کا اعتکاف اگر واجب ہوا تو ٹوٹ جائے گا اور نفل ہوا تو ختم ہو جائے گا۔([6])
اعتکاف کے شرعی مسائل سیکھنے کے لئے مکتبۃ المدینہ کی کتاب فیضانِ رمضان اور ر سالہ گھریلو مسجد بنانا سنت ہے، کا مطالعہ کیجئے۔مزید کوئی الجھن ہو تو دارُ الافتاء اہلِ سنت سے رابطہ کر کے معلومات حاصل کیجئے۔اللہ پاک ہمیں اعتکاف کی سعادت نصیب فرمائے اور اسے اپنی پاک بارگاہ میں قبول بھی فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ملیر کراچی
[1] بخاری، 1/664، حدیث:2026
[2] فتاویٰ رضویہ، 22/479
[3] بہارِ شریعت،2/1021،حصہ:5ملخصاً
[4] در مختار مع رد المحتار، 3/494
[5] فیضانِ نماز، ص532
[6] رد المحتار، 3 /501
Comments