رمضان المبارک  کی عبادات
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن

سلسلہ: عبادات

موضوع: رمضان المبارک کی عبادات

*ام غزالی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رمضان شریف میں رحمت کے دروازے کھل جاتے، جہنم کے دروازے بند ہو جاتے اور سرکش شیطان قید کر دئیے جاتے ہیں۔ اس ماہ کا ہر لمحہ رحمت بھرا ہے۔ اس میں مسلمان عبادت کا خاص اہتمام کرتے ہیں کہ اس میں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب 70 گنا کر دیا جاتا ہے۔([1]) ایک روایت کے مطابق اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو جاتا کہ رمضان کیا ہے تو وہ سب تمنا کرتے کہ کاش! پورا سال ہی رمضان ہوتا۔([2])

مفتی احمد یار خان نعیمی  رحمۃ اللہِ علیہ  فرماتے ہیں: رمضان میں پانچ حروف ہیں: ر م ض ا ن۔ ر سے مراد رحمتِ الٰہی، میم سے مراد محبتِ الٰہی، ض سے مراد ضمانِ الٰہی، الف سے امانِ الٰہی، ن سے نورِ الٰہی۔ رمضان میں پانچ عبادات خصوصی ہوتی ہیں: روزہ، تراویح، تلاوتِ قرآن، اعتکاف اور  شبِ قدر میں عبادات۔ تو جو کوئی صدقِ دل سے یہ پانچ عبادات کرے وہ ان پانچ انعاموں کا مستحق ہے۔([3]) ان پانچ عبادات کی مختصر تفصیل کچھ یوں ہے:

روزہ:  ہر چیز کا ایک دروازہ ہے اور عبادت کا دروازہ روزہ ہے۔([4]) روزہ ارکانِ اسلام  میں سے ہے اور رمضان شریف کے روزے ہر مسلمان (مرد و عورت)عاقل و بالغ پر فرض ہیں اور ایک روایت کے مطابق ایمان و  ثواب کی امید پر رمضان کے روزے رکھنا پچھلے گناہوں کی  بخشش کا ذریعہ ہے۔([5])

تراویح:اس مہینے کی خصوصی عبادت نمازِ تراویح ہے جو ہر عاقل و بالغ عورت کیلئے سنتِ مؤکدہ ہے۔([6]) اس کا چھوڑنا جائز نہیں۔ جمہور کے نزدیک نمازِ تراویح  کی 20 رکعت ہیں۔([7]) جو عشا کے فرض پڑھنے کے بعد صبحِ صادِق تک پڑھی جا سکتی ہیں،  اگر عشا کے فرض ادا کرنے سے پہلے پڑھ لیں تو نہ ہوں گی۔([8])

بہتر یہ ہے کہ تراویح دو دو کر کے دس سلام کے ساتھ ادا کریں۔([9]) ہر چار رکعتوں کے بعد اتنی دیر آرام لینے کے لئے بیٹھنا مستحب ہے جتنی دیر میں چار رکعات پڑھی ہیں۔ اس وقفے کو ترویحہ کہتے ہیں۔    ([10]) ترویحہ کے دوران اختیار ہے کہ چپ بیٹھیں یا ذکر و درود اور تلاوت کریں یا تنہا نفل پڑھیں یایہ تسبیح بھی پڑھ سکتی ہیں:

سُبْحٰنَ ذِی الْمُلْکِ وَالْمَلَکُوْت سُبْحٰنَ ذِی الْعِزَّتِ وَالعَظَمَۃِ وَالھَیْبَۃِ وَالْقُدْرۃِ وَالْکِبْرِیَاءِ وَالْجَبَرُوْتِ سُبْحٰنَ الْمَلِکِ الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَنَامُ وَلَا یَمُوْتُ سُبُّوحٌ قُدُّوْسٌ رَّبُّنَا وَ رَبُّ الْمَلٰئِکَۃِ وَالرُّوْحِ اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ یَامُجِیْرُ! یَامُجِیْرُ!  یَامُجِیْرُ! بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْن۔

بیس رکعتیں ہو  چکنے کے بعد پانچواں ترویحہ بھی مستحب ہے۔  ([11])

تلاوتِ قرآن: اس مبارک مہینے کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں اللہ پاک نے قرآنِ پاک نازل فرمایا۔ پیارے آقا  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم  اس ماهِ مبارک کی ہر رات میں جبریلِ امین علیہ السلام کے ساتھ قرآنِ پاک کا دور فرماتے۔([12]) لہٰذا ہمیں بھی اس ماہ میں دیگر عبادات کے ساتھ تلاوتِ قرآن پاک کی عادت بنانی چاہیے، بلکہ ماہِ رمضان میں ختمِ قرآن کرنا چاہیے اور جو حافظہ ہوں انہیں تو تراویح میں قرآنِ پاک مکمل کرنا چاہئے۔ ہمارے بزرگانِ دین رمضان شریف میں کثرت سے تلاوت فرمایا کرتے، مثلاً امامِ اعظم ابو حنیفہ  رحمۃ اللہِ علیہ  رمضان شریف اور عید الفطر میں 62 قرآنِ پاک ختم کرتے(ایک دن میں، ایک رات میں ، ایک تراویح میں اور ایک عید کے روز)۔ ([13]) حضرت قتادہ بن دِعامہ  رحمۃ اللہِ علیہ (رمضان کے علاوہ) سات راتوں میں ایک مرتبہ قرآنِ کریم ختم کیا کرتے، رمضان میں تین راتوں میں اور رمضان کے آخری عشرے کی ہر رات ایک قرآنِ پاک ختم کرتے تھے۔  ([14])

اعتکاف: یہ مہینا رحمت، برکت اور توبہ و مغفرت کا ہے۔ اس ماہ میں ایک رات ایسی ہے جس کی فضیلت پانے کے لئے حضور  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم  نے پورا مہینا اعتکاف فرمایا اور آخری دس دن تو آپ نے کبھی بھی اعتکاف نہ چھوڑا، بلکہ اس کی ترغیب دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا: جس نے رمضان  میں دس دن کا اعتکاف کر لیا وہ ایسا ہے جیسے دو حج اور دو عمرے کئے۔([15]) لہٰذا ممکن ہو تو رمضان شریف کے آخری عشرے کا اعتکاف اپنے گھر کی مسجد میں ضرور کیجئے۔

شبِ قدر: یوں تو رمضان شریف کی ساری راتیں ہی با برکت ہیں، مگر اس ماہ کی ایک رات یعنی شب قدر کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے، اس رات میں ہمارے پیارے آقا  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم  نماز ادا فرماتے، قرآنِ کریم کی تلاوت، دعا اور ذکر و اذکار بھی فرماتے۔([16])اور بزرگانِ دین بھی اس رات خصوصی عبادت کا اہتمام فرماتے۔ چنانچہ ان سے عبادت کے جو چند طریقے مروی ہیں، ان میں سے کچھ یہ ہیں:

*جو رمضان شریف کی 27 ویں رات دو رکعت نماز اس طرح ادا کرے کہ اس کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ قدر ایک بار اور سورۂ اخلاص 100 بار پڑھے، پھر نماز سے فارغ ہو کر 100بار درودِ پاک پڑھے تو اس کو بے شمار اجر و  ثواب حاصل ہو گا۔([17]) *جو کوئی شبِ قدر میں سورۂ قدر سات بار پڑھے تو اللہ پاک اسے ہر بلا سے محفوظ فرما دیتا ہے  اور 70 ہزار فرشتے اس کے لئے جنت کی دعا کرتے ہیں اور جو کوئی جب کبھی جمعہ کے روز، نمازِ جمعہ سے پہلے تین بار پڑھتا ہے اللہ پاک اس روز کے تمام نماز پڑھنے والوں کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھتا ہے۔([18])* شبِ قد ر کی کم سے کم دو ، زیادہ سے زیادہ ہزار اور درمیانی تعداد 100رکعت ہیں، جن میں قراءت کی درمیانی مقدار یہ ہے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد ایک مرتبہ سورۂ قدر اور تین بار سورۂ اخلاص  پڑھیں، اور ہر دو رکعت پر سلام پھیر کر دوردِ پاک بھی پڑھئے۔([19])

شبِ قدر کی دعا: اللَّهُمَّ اِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي۔

27ویں دن کے نوافل: جس طرح شبِ قدر یعنی رمضان کی ستائیسویں رات میں رحمتیں نازل ہوتی ہیں، اسی طرح ستائیس رمضان بھی بڑا با برکت دن ہوتا ہے اور اس میں بھی خوب خوب عبادت کرنی چاہیے۔ حضرت امام شافعی  رحمۃ اللہِ علیہ  فرماتے ہیں: میں یہ چاہتا ہوں کہ لوگ لیلۃ القدر کے دن میں بھی رات کی طرح دلچسپی سے عبادت کریں اور امام شعبی  رحمۃ اللہِ علیہ  فرماتے ہیں: لیلۃ القدر کا دن بھی رات کی طرح افضل ہے۔([20]) حضرت اشرف جہانگیر سمنانی  رحمۃ اللہِ علیہ  فرماتے ہیں: 27 رمضان شریف دن میں 12 رکعت نماز ادا کرے، اس کی ہر  رکعت میں سورۂ فاتحہ، آیۃ الکرسی اور سورۂ قدر ایک بار اور سورۂ اخلاص 7 بار پڑھے، جب نماز سے فارغ ہو تو 3 بار کہے: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ،پھر تین بار درودِ پاک بھیجے تو اللہ پاک قیامت کے دن اس سے عذاب و حساب دور فرمائے گا اور وہ انبیائے کرام کے ساتھ جنت میں داخل ہو گا۔([21])

لَیْلَۃُ   الْقَدْر      میں           مَطْلَعِ    الْفَجْر      حق مانگ کی استقامت پہ لاکھوں سلام

اللہ پاک ہمیں اس ماہ کی برکتوں سے مالا مال فرمائے۔ آمین  بجاہِ النبی الامین  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* شعبہ ماہنامہ خواتین



[1] ابن خزیمہ، 3/192،حدیث:1887

[2] ابنِ خزیمہ، 3/190، حدیث:1886

[3] تفسیر نعیمی، 2/209

[4] جامع صغیر، ص146، حدیث:2415

[5] بخاری، 1/26، حدیث:38

[6] در مختار، 2/597،596ملخصاً

[7] در مختار ورد المختار ، 2/ 599

[8] فتاویٰ ہندیۃ،1/ 115

[9] در مختار،2/599

[10] فتاویٰ ہندیۃ،1/115

[11] فتاویٰ ہندیۃ،1/115

[12] بخاری،2/384 ، حدیث :3220

[13] ا لخیرات ا لحسان ، ص50

[14] سیراعلام النبلاء ، قتادۃ بن دعامۃ ، 6 / 95

[15] شعب الایمان، 3/425، حدیث:3966

[16] لطائف المعارف، ص259 ملخصاً

[17] جواھر خمسہ، ص27

[18] نزہۃ المجالس، 1/223

[19] تفسیر روح البیان،10/483

[20]لطائف المعارف، ص235

[21]لطائف اشرفی، 2/235


Share