حضور کی اپنی شہزادیوں  سے محبت
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن

سلسلہ: فیضانِ سیرتِ نبوی

موضوع: حضور کی اپنی شہزادیوں  سے محبت

(نئی رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ مضمون 33ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کیا جا رہا ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*بنتِ       محمد  اکرم عطاریہ(اول پوزیشن )

دنیاوی طور پر دیکھا جائے تو بیٹیوں سے والدین اور خاندان کو بظاہر کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا  بلکہ الٹا ان کی شادی کے کثیر اخراجات  کا بوجھ باپ کے کاندھوں پر آ پڑتا ہے؛ اسی لئے بعض نادان بیٹیوں کی ولادت پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں اور اس کی والدہ کو طعنے دیئے جاتے ہیں۔ دورِ جاہلیت میں بھی بیٹی پر ظلم کے پہاڑ  توڑے جاتے تھے اور ان کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا حالانکہ بیٹی کی پیدائش پر مختلف خوش خبریوں سے نوازا گیا ہے۔ چنانچہ حضرت ابنِ عباس  رضی اللہُ عنہما   سے روایت ہے کہ نبی کریم  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم  کا فرمانِ عظمت  نشان ہے: جس کے ہاں بیٹی پیدا ہو اور وہ اسے تکلیف نہ دے، نہ اسے برا جانے اور نہ بیٹے کو بیٹی پر ترجیح دے تو اللہ پاک اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔([1])

اسی طرح حضرت نُبیط بن شَریط  رضی اللہُ عنہ  سے روایت ہے کہ حضور  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم  نے ارشاد فرمایا:بیٹیوں کو برا مت کہو! میں بھی بیٹیوں والا ہوں۔بے شک بیٹیاں تو بہت محبت کرنے والیاں، غمگسار اور بہت زیادہ مہربان ہوتی ہیں۔([2])

رسولِ پاک  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم  نے بیٹیوں سے محبت کرنے کی نہ صرف تعلیمات ارشاد فرمائیں بلکہ عملاً بھی اس کی مثالیں قائم کیں، چند مثالیں ملاحظہ کیجئے:

1-حضرت زینب    رضی اللہُ عنہا   سے محبت: حضرت زینب    رضی اللہُ عنہا   رسولِ اکرم  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم  کی سب سے بڑی شہزادی ہیں جو اعلانِ نبوت سے دس سال پہلے مکہ شریف میں پیدا ہوئیں۔ جنگِ بدر کے بعد حضور  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم  نے انہیں مدینہ شریف بلا لیا۔جب یہ ہجرت کے ارادے سے اونٹ پر سوار ہو کر مکے سے باہر نکلنے لگیں تو کافروں نے ان کا راستہ روک لیا اور ایک ظالم نے نیزہ مار کر ان کو اونٹ سے زمین پر گرا دیا جس کی وجہ سے ان کا حمل ضائع ہو گیا۔ حضور  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم  کو اس واقعہ سے بہت صدمہ ہوا۔چنانچہ ان کے فضا ئل میں ارشاد فر مایا: یہ میری بیٹیوں میں اس اعتبار سے فضیلت والی ہے کہ میری طرف ہجرت کرنے میں اتنی بڑی مصیبت اٹھا ئی۔([3])

حضرت زینب    رضی اللہُ عنہا   نے راہِ خدا میں ہجرت کی اور اس دوران جو تکلیف اٹھائی اس کا اثر بہت دیر تک رہا یہاں تک کہ اسی تکلیف میں آپ کی وفات ہوئی۔حضور  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم  کو اپنی پیاری بیٹی کی وفات سے غم پہنچا، چنانچہ آپ نے خود نمازِ جنازہ پڑھائی، کفن کے لئے اپنا تہبند شریف دیا اور خود اپنے  مبارک ہاتھوں سے قبر میں اتارا۔([4])حضرت انس  رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں:جب نبی کریم  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم  قبر سے باہر تشریف  لائے تو چہرۂ مبارک پر پریشانی اور غم کے آثار تھے، پوچھنے پر ارشاد فرمایا: مجھے قبر کا دبانا اور موت کی شدت یاد آگئی، لہٰذا میں نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی کہ میری بیٹی پر آسانی ہو، بے شک میری یہ بیٹی لمبا عرصہ بیمار رہی ہے۔([5])

ان روایت سے معلوم ہوتا ہےکہ رسولِ کریم  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم  کو اپنی بیٹی سے کس قدر محبت تھی!

2-حضرت رُقَیَّہ    رضی اللہُ عنہا   سے محبت:آپ رسولِ کریم  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم  کی دوسری بیٹی ہیں۔آپ اعلانِ نبوت سے سات سال پہلے مکے میں پیدا ہوئیں۔ آپ سے بھی حضور اکرم  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم  بہت محبت فرمایا کرتے اور آپ کو اپنی توجہ میں رکھتے،چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ ایک دن نبی پاک  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم  نے حضرت اسامہ بن زید  رضی اللہُ عنہ  کو رکابی میں گوشت دے کر ان کے ہاں بھیجا، جب وہ واپس آئے تو آپ نے ان کے سامنے سیدہ رُقَیَّہ اور ان کے شوہر حضرت  عثمان ِغنی  رضی اللہُ عنہما  کا ذکر بڑے ہی اچھے انداز میں فرمایا۔([6])

جب حضرت عثمانِ غنی   رضی اللہُ عنہ  اور حضرت رُقَیَّہ    رضی اللہُ عنہا   نے حبشہ کی طرف ہجرت کی، ان کی حبشہ روانگی کے بعد کچھ دن تک خیریت معلوم نہ ہوئی تو حضور  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم  فکر مند ہوئے لیکن جب ان کی خیریت کی خبر سنی تو یوں دعا دی: اللہ پاک ان دونوں کی حفاظت  فرمائے۔([7])

3-حضرت اُمِّ کلثوم    رضی اللہُ عنہا   سے محبت:حضرت اُمِّ کلثوم    رضی اللہُ عنہا  ،حضرت رُقَیَّہ    رضی اللہُ عنہا   سے چھوٹی تھیں اور اعلانِ نبوت سے پہلے مکے میں پیدا ہوئیں اور شعبان 9ھ میں وفات پائی اور اللہ پاک کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔([8]) آپ کا مزار جنت البقیع میں ہے۔

4-خاتونِ جنت حضرت فا طمۃ الزہرا    رضی اللہُ عنہا   سے محبت: آپ نبی کریم  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم  کی سب سے چھوٹی مگر سب سے پیاری اور لاڈلی شہزادی ہیں۔ آپ جب بھی اپنے والدِ محترم کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو حضور  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم  کھڑے ہو جاتے، ان کا ہاتھ پکڑتے اور اسے بوسہ دیتے، پھر انہیں اپنے بیٹھنے کی جگہ پر بٹھاتے۔([9])

حضرت عبدُ اللہ ابنِ عمر    رضی اللہُ عنہما   فرماتے ہیں:نبی اکرم  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم  جب سفر کا ارادہ فرماتے تو سب سے آخر میں حضرت فاطمہ    رضی اللہُ عنہا   سے ملاقات فرماتے اور جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے آپ سے ملاقات فرماتے۔([10])

اللہ پاک کے سب سے آخری نبی  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم  نے سیدہ فاطمہ زہرا    رضی اللہُ عنہا   سے ارشاد فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم جنتیوں یا مومنین کی عورتوں کی سردار ہو!([11]) مزید فرمایا: فاطمہ میرے بدن کا ایک ٹکڑا ہے، جس نے فاطمہ کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔([12])

الغرض حضور  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم  کو اپنی تمام  شہزادیوں سے بے پناه محبت تھی اور آپ نے ان کی ہر طرح سے تعليم و تربیت فرمائی۔ نیز بیٹیوں کی تعلیم و تربیت اور حُسنِ اخلاق  کے بارے میں جو خوشخبریاں دیں اسے عملاً بھی کر کے دکھایا۔

مصطفےٰ کی بیٹیوں پر گفتگو ہم کیا کریں           رحمت و فضلِ خدا ہیں مصطفےٰ کی بیٹیاں

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں بیٹیوں کے جائز اور شرعی حقوق ادا  کرنے کی توفیق دے تاکہ یہ معاشرے میں کیے جانے والے غیر مناسب سلوک سے محفوظ رہ سکیں۔

اٰمین بجاہِ النبی الامین  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*(ایم اے اردو بے نظیر یونیورسٹی گلشنِ معمار کراچی)



[1]مستدرک، 5/248، حدیث:7428

[2]مسند فردوس، 5/37، حدیث:7385

[3]دلائل النبوۃ للبیہقی، 3/156

[4]شرح زرقانی، 4/318

[5]علل دار قطنی، 12/251، حدیث:2679

[6]معجم کبیر، 1/76، حدیث:97 ملخصاً

[7]مطالب عالیہ، 8/377، حدیث:3917ملخصاً

[8]شرح زرقانی علی مواہب لدنیہ 4 / 327،325 ملتقطا

[9]ابو داود، 4/454، حدیث:5217

[10]مستدرک، 4/141، حدیث:4792

[11]بخاری، 2/508، حدیث:3624

[12]بخاری، 2/550، حدیث:3767


Share