سلسلہ: رسم ورواج
موضوع: رخصتی (قسط3)
*بنتِ منصور عطاریہ مدنیہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزشتہ سے پیوستہ: رخصتی کی رسمیں بیان کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور اس مضمون میں رخصتی کے بعد دلہن جب دلہا کے گھر پہنچتی ہے اور وہاں جو رسمیں ادا کی جاتی ہیں،صرف وہ باقی رہ گئی ہیں؛ جو کچھ یوں ہیں:
جوان لڑکیوں کا دلہن کو چھوڑنے جانا: بعض جگہوں پر رخصتی میں دلہن کے ساتھ کنواری لڑکیاں یا پھر اکثر اس کی بہنیں چھوڑنے جاتی ہیں۔ یہ ایک بہت نا مراد رسم ہے اور اس میں برائی ہی برائی ہے کہ جب کنواری لڑکیاں دلہن کو اس کے سسرال تک چھوڑنے جاتی ہیں تو ان کے جذبات کا کیا عالم ہو گا!شیطان تو ویسے ہی ہر کسی کے ساتھ لگا ہوا ہے،مگر خاص طور پر اس کام کے لیے ایک تو کنواری لڑکیوں کا جانا اور پھر وہ بھی شادی کے سجے دھجے انداز میں بےپردہ جانا شیطان کے لیے کس قدر خوش کُن ہو گا!
لہٰذا اولاً تو یہ رسم سرے سے ختم ہونی چاہیے اور اگر کسی نے چھوڑنے جانا ہی ہو تو بڑی بوڑھیوں کو جانا چاہیے۔
بعض لوگوں کو سمجھایا جائے تو کہتے ہیں بچوں کی خوشیاں ہیں، یاد رکھیے! گناہ چاہے بچوں کی خوشی کے لیے کیا جائے یا لوگوں کی باتوں سے بچنے کے لیے، گناہ گناہ ہی ہے اور حدیثِ پاک میں ہے: اللہ پاک کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔([1])لہٰذا ہماری خوشی غمی کا انداز اللہ پاک کے احکامات کے مطابق ہونا چاہیے، خوشی کے موقع پر رب کی نافرمانی کرنا صرف اپنی خوشی کو تباہ کرنا،اپنی ہلاکت اور اللہ پاک کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
دلہن کے داخل ہونے سے پہلے گھر کی دہلیز پر تیل ڈالنا
یہ رواج بھی دیکھا گیا ہے کہ جب دلہن رخصت ہو کر آتی ہے تو دہلیز پر تیل ڈالا جاتا ہے۔ یہ جائز نہیں کہ مال کا ضیاع و اسراف ہے۔ اسی طرح بعض کے ہاں یہ رواج بھی ہے کہ جب دلہے کی بارات لے جا رہے ہوتے ہیں تو راستے میں دریا یا نہر آئے تو اس میں پیسے ڈال دیتے ہیں یہ بھی اسراف ہے کہ مال کا ضیاع ہے۔([2])
قدموں کا دھوون چھڑکنا
بعض کے ہاں دلہن کی رخصتی کے بعد جب سب سے پہلے دلہن گھر آتی ہے تو دلہن کے پاؤں دھو کر اس کا پانی گھر کے چاروں کونوں میں چھڑکا جاتا ہے اور بعض اس کو برا سمجھتے ہیں کہ یہ ہندوانہ رسم ہے، جبکہ یہ مستحب اور باعِثِ برکت کام ہے۔ جیسا کہ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ فتاویٰ رضویہ شریف میں فرماتے ہیں:
دلہن کو بیاہ کر لائیں تو مستحب ہے کہ اس کے پاؤں دھو کر مکان کے چاروں گوشوں میں چھڑکیں اس سے برکت ہوتی ہے۔([3])
دروازہ/ رستہ روکائی
جب دلہا دلہن کو گھر لے آتا ہے تو پھر دلہے کی بہنیں اس کو کمرے میں داخل ہونے سے روک دیتی ہیں اور پیسوں کا مطالبہ کرتی ہیں۔ اس میں بھی لی جانے والی رقم کا وہی حکم ہے جو دودھ پلائی کی رسم کے تحت گزر چکا ہے کہ اگر دلہا بخوشی دے تو حرج نہیں اور اگر مجبوراً عزت بچانے کی خاطر دے تو رشوت کے حکم میں ہے۔
رخصتی کے بعد دلہا کے گھر پہنچ کر نفل کی ادائیگی کرنا
یہ رواج بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ رخصتی کے بعد جب دلہن دلہا کے گھر آ جاتی ہے تو دلہا اور دلہن سب سے پہلے نفل ادا کرتے ہیں۔ یہ بہت قابلِ تحسین عمل ہے کہ اپنی زندگی کے ایک نئے دور کا آغاز اللہ کے ذکر اور اس کی نعمتوں کے شکر سے کیا جائے۔بلاشبہ نفل کی ادائیگی کرنا اللہ پاک کی رحمت کے نزول کا سبب ہے اور اس میں کوئی برائی بھی نہیں۔ تاہم اس معاملہ میں دو باتیں قابلِ غور ہیں:
پہلی خرابی اس میں یہ پائی جاتی ہے کہ دلہن کا لباس ستر عورت کی شرائط پر پورا نہیں اترتا،کیونکہ اکثر دلہنوں کی آستینیں چھوٹی ہوتی ہیں اور دوپٹا اس طرز پر ہوتا ہے کہ بال ، سینہ اور گردن نمایاں ہوتے ہیں۔ حالانکہ لازم ہے کہ شریعت نے نماز میں جن اعضا کو چھپانے کا حکم دیا ہے، انہیں اچھی طرح چھپایا جائے۔اگرچہ اعضائے ستر میں سے کوئی ایک عضو چوتھائی حصے سے کم ظاہر ہو تو نماز ادا ہو جاتی ہے مگر جان بوجھ کر اس طرح عضو کھول کر نماز پڑھنا بے ادبی ضرور ہے اور بعض صورتوں میں تو گناہ بھی ہو گا مثلاً عورت کا نامحرم مرد کے سامنے ٹخنے ظاہر کر کے نماز پڑھنا۔([4]) چنانچہ،
اس کا آسان حل یہ ہے کہ دلہن اپنے اسی دوپٹے پر ایک اور چادر اوڑھ کر نماز ادا کرے جس سے اس کا ستر چھپ جائے تو یقیناً نماز ادا ہو جائے گی۔
دوسری خرابی یہ ہے کہ نفل کی ادائیگی کے وقت مووی بنائی جاتی ہے اور اس کی تشہیر کی جاتی ہے، ایسے میں ریاکاری سے بچنا بہت مشکل ہے، بلکہ بعض تو اس موقع پر نفل ادا ہی مووی بنوانے اور اسٹیٹس لگانے کے لیے کرتے ہیں، معاذ اللہ اس سے بچنا چاہیے اور تنہائی میں نوافل ادا کرنے چاہئیں۔
منہ دکھائی
پہلے زمانے میں رشتے ہوتے تھے تو دلہا دلہن کی ملاقات ہوتی تھی نہ تصاویر کا رواج تھا۔ لہٰذا جب دلہا دلہن کے چہرے کو پہلی بار دیکھتا تو اس کو منہ دکھائی کے طور پر تحفہ دیتا تھا۔ اب اگرچہ پہلے سے چہرہ دیکھا ہوتا ہے مگر پھر بھی پہلی رات چہرہ دیکھنے پر کوئی نہ کوئی خاص تحفہ دلہا دلہن کو دیتا ہے۔ اس میں سونے کی انگوٹھی، موبائل یا کوئی دوسری قیمتی چیز دینے کا رواج ہے، اس میں کوئی برائی نہیں۔
کھیر کھلائی
دلہن رخصت ہو کر جب دلہا کے گھر جاتی ہے تو وہاں اسے کھیر کھلائی جاتی ہے۔ اسے ”کھیر کھلائی“ کی رسم کہا جاتا ہے۔ یہ رسم بھی کافی گھرانوں میں مقبول ہے۔ اس سے لوگ اچھا شگون لیتے ہیں۔ اس رسم میں بھی کوئی برائی نہیں، بلکہ کیا ہی اچھا ہو کہ اس پر نیاز دے دی جائے اور کچھ ایصالِ ثواب کا اہتمام ہو جائے تو کارِ ثواب شمار ہو۔
دلہن کے سسرال ناشتہ لے کر جانا
رخصتی کے بعد اگلی صبح دلہن کے گھر والے دلہے کے ہاں ناشتہ لے کر جاتے ہیں۔ اس رسم میں بھی دلہن والوں کا اچھا خاصا خرچ ہو جاتا ہے، اس میں ناشتے کے لیے حلوہ پوری وغیرہ چیزیں لے کر جائی جاتی ہیں۔اس کا مقصد لڑکی کی خیریت پوچھنا ہوتا ہے۔ اس میں اگر اچھی نیت ہے تو حرج نہیں۔
والدین کا لڑکی کے ہاں سے کچھ کھانا
بعض خاندانوں میں بیٹی کی رخصتی کے بعد اس کے ہاں کھانا کھانا یہاں تک کہ وہاں کا پانی پینا بھی انتہائی ناپسند جانتے ہیں،گویا پانی نہ ہو زہر ہو،جبکہ شرعی طور پر ایسی کوئی ممانعت وارد نہیں ہوئی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* دفتر ذمہ دار پاک سطح، شعبہ حج و عمرہ کراچی
Comments