تاثرات و سفارشات
عالمہ ام غزالی عطاریہ مدنیہ
ماہنامہ خواتین(ویب ایڈیشن) کے متعلق موصول تاثرات و تجاویز میں سے چند تاثرات و تجاویز ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیشِ خدمت ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بنتِ اللہ بخش عطاریہ(ہند)
الحمد للہ! ماہنامہ خواتین(ویب ایڈیشن)کی شروعات میں شعبہ ماہنامہ خواتین کی طرف سے مجھے خاندان سے تعلق رکھنے والی مختلف گھریلو خواتین مثلاً ماں، بہن، بیٹی، بیوی، خالہ اور پھوپھی وغیرہ کے کردار پر مشتمل سلسلہ بنام خاندان میں عورت کا کردار پر لکھنے کا موقع عطا کیا گیا جسے میں نے سعادت سمجھ کر بخوشی قبول کیا۔
مضمون نویسی کا چونکہ یہ بنیادی اصول ہے کہ کسی بھی عنوان پر لکھنے سے پہلے اس سے متعلق خاطر خواہ معلومات ہوں، جس کے لئے مشاہدات و مطالعہ کا ہونا ضروری ہے، لہٰذا میں نے اللہ پاک کا نام لے کر اپنی تمام ہمت جمع کی اور اپنے موضوعات سے متعلق مشاہدہ و مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ یقیناً اس عنوان پر لکھنا میرے لئے کسی امتحان سے کم نہ تھا، کیونکہ مجھے خواتین کے تعلق سے زیادہ معلومات نہ تھیں اور میں یہی سمجھتی تھی کہ ان کا کام بس کھانا پکانا، گھر کی صفائی کرنا، بچوں کی دیکھ بھال کرنا اور والدین و شوہر وغیرہ کا خیال رکھنا ہے لیکن مطالعہ و مشاہدہ سے جب یہ معلوم ہوا کہ ایک بہترین خاندان کی تکمیل میں خواتین کا کردار کتنا اہم ہوتا ہے اور ان پر کس قدر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔
بہرحال میری محنت رنگ لائی اور میرے مضامین ماہنامہ خواتین(ویب ایڈیشن)میں قسط وار شائع ہونا شروع ہو گئے۔الحمد للہ! ان مضامین کی برکت سے خود میرے اپنے کردار پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے اور مجھ پر ایک عورت کی خاندان میں مختلف حیثیتوں یعنی بہن، بیٹی وغیرہ کے اعتبار سے ان رشتوں کی اہمیت بھی روزِ روشن کی طرح واضح ہوتی چلی گئی اور اب جہاں مجھے اپنی ذمہ داریاں ہی یاد رہتی رہیں وہیں کچھ کہنے سے پہلے سوچنے کا ذہن بھی ملتا ہے کہ اس کا اثر منفی ہو گا یا مثبت۔
اس سلسلے کے مضامین پڑھنے والی اسلامی بہنیں بھی خوشی کا اظہار کرتیں اور اچھے تاثرات دیتیں مثلاً میری والدہ سے کہتیں کہ ماہنامہ خواتین میں خاندان میں عورت کا کردار نامی سلسلے میں آپ کی نورِ نظر کے لکھے گئے معلوماتی مضامین پڑھنے کے بعد ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی اور اپنے گھر والوں کی اصلاح کا طریقہ بھی سمجھ آیا۔
یہ مضامین لکھنا یقیناً اللہ پاک کی توفیق،اولیائے کرام بالخصوص امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ کے فیضان، شعبہ ماہنامہ خواتین اور اپنی والدہ ماجدہ کی شفقت و راہ نمائی کے بغیر ممکن نہیں تھا، میں ان سب کی ہمیشہ شکر گزار رہوں گی۔
ہر اسلامی بہن کو ماہنامہ خواتین کے ہر ہر مضمون کا بغور مطالعہ کرنا چاہیے اور غور و فکر کرنا چاہیے کہ کیا وہ خاندان میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے یا نہیں! اگر خواتین نیک ہوں گی، اپنی گھریلو اور معاشرتی ذمہ داریاں نبھائیں گی تو خاندان بھر میں ان کا کردار قابلِ تعریف ہو گا، گھر کا نظام بھی اچھا چلے گا، گھر فتنوں سے محفوظ رہے گا اور ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی بھی ہوتی رہے گی! میری دلی خواہش ہے کہ ہماری رائٹرز اسی طرح کے مزید اچھے اچھے مضامین لکھیں اور زیادہ سے زیادہ اسلامی بہنیں ان مضامین کو پڑھیں۔اللہ چاہے گا تو زندگی کے ہر ہر پہلو سے متعلق وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ علمِ دین کا ڈھیروں ڈھیر خزانہ نصیب ہو گا۔
مشورہ:
ماہنامہ خواتین میں شامل خواتین کی اصلاح پر تمام مضامین اپنی مثال آپ ہیں؛ اے کاش! اس میں ہمارے بزرگانِ دین کی سیرت پر بھی ایک مستقل سلسلہ شروع ہو جائے، یوں ماہنامہ خواتین کی اہمیت و افادیت مزید بڑھ جائے گی اور مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی ان مقدس ہستیوں کا فیضان نصیب ہو گا۔
اس ماہنامے میں آپ کو کیا اچھا لگا! کیا مزید اچھا چاہتی ہیں!اپنے تاثرات(Feedback)، مشورے اور تجاویز اس ای میل ایڈریس mahnamahkhawateen@dawateislami.net پر یا وٹس ایپ نمبر03486422931پر تحریراً بھیج دیجئے۔
Comments