حوصلہ افزائی
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن

سلسلہ: اخلاقیات

موضوع: حوصلہ افزائی

*اُمِّ انس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوصلہ افزائی کا مطلب ہمت بڑھانا اور جوش و ولولہ پیدا کرنا ہے، حوصلہ افزائی سے دل خوش ہوتا ہے اور ایک عزم کے ساتھ کچھ کر دکھانے کا شوق پیدا ہوتا ہے۔ اگر حوصلہ افزائی نہ ہو تو شاید لوگ بلند مراتب، بلند عہدوں اور اونچی منزلوں تک نہ پہنچ پائیں،چنانچہ کوئی چلتے چلتے تھکنے لگے، کوئی دوڑتے ہوئے گر جائے یا کوئی قابلِ تحسین کام سر انجام دے تو حوصلہ افزائی کے دو جملے کہہ دینا، شفقت سے اس کی پیٹھ تھپک دینا اس کی تھکن کو دور کر سکتا ہے،نیز گرتے ہوئے کو پھر سے کھڑا کر کے بہت آگے پہنچا سکتا ہے۔

حوصلہ کی ضرورت ہر کسی کو ہوتی ہے، چاہے ایک دن کا بچہ ہو یا سو سال کی بوڑھی۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ چھوٹا بچہ جب چلنا سیکھتا ہے تو ہم غیر ارادی طور پر اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں: شاباش! قدم بڑھاؤ!، آؤ! میرے پاس آؤ! یہ چیز آ کر اٹھاؤ! جب بچہ قدم اٹھاتا ہے تو اس کی طرف مسکرا کر دیکھتی ہیں، خوش ہوتی ہیں، بچہ ہمارے چہرے پر خوشی کے آثار دیکھ کر مزید کوشش کرنے لگتا ہے اور یوں چلنا سیکھ جاتا ہے، یونہی پڑھائی کے معاملے میں بھی بچے کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہے تو بچہ ذہنی کوفت سے بچتا ہے اور پڑھائی کو بوجھ نہیں اپنا شوق بنا لیتا ہے، اس کے برعکس اگر بچوں کا رزلٹ دیکھ کر ان کی حوصلہ شکنی کریں کہ اتنا ٹائم اور پیسے خرچ ہو رہے ہیں تم پر مگر رزلٹ پھر بھی اچھا نہیں، نہ جانے تم کب بہتر بنو گے! تو اس طرح وہ بددل ہوکر پڑھائی میں پیچھے ہوجائے گا۔ لہٰذا کبھی بھی بچے کی حوصلہ شکنی نہ کریں، خراب رزلٹ دیکھ کر بھی رزلٹ کے اندر کوئی خوبی تلاش کریں، مثلاً Math میں اچھے نمبر نہیں مگر انگلش اور اسلامیات میں نمبر اچھے ہیں تو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ واہ بھئی ! ما شاء اللہ انگلش اور اسلامیات میں تو تم نے کمال کر دیا! زبردست شاباش بیٹا! اب اسی طرح Math میں بھی کوشش کرو اور اچھے نمبر سے کامیابی حاصل کرو! اس طرح حوصلہ افزائی کرنے سے بہت مثبت نتائج حاصل ہوں گے۔ یونہی بچہ جب کوئی اچھا کام کرے، مثلاً نماز پڑھنے لگے سورۂ فاتحہ یاد کر لے یا کسی سنت کو سیکھ کر اس پر عمل کرے، اپنے بہن بھائی  پر شفقت کرے تو اس کی حوصلہ افزائی کیجئے۔ امام محمد غزالی  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں: جب بچہ کوئی اچھا کام کرے اور خوش اخلاق بنے تو اس کی تعریف کریں اور اس کو ایسی چیز دیں جس سے اس کا دل خوش ہو جائے۔([1])

اللہ پاک نے نیک کام کرنے، صبر کرنے، دینِ اسلام کی پیروی کرنے، عاجزی کرنے، صدقہ و خیرات کرنے، روزے رکھنے اور پاکیزہ دامن رہنے والی عورتوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵) (پ 22، الاحزاب:35)

ترجمہ: ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔

حوصلہ افزائی کے فوائد: جائز کاموں میں حوصلہ افزائی  کے بڑے فوائد ہیں، مثلاً: اس کی برکت سے کام کی رفتار بڑھ جاتی ہے، آنے والی مشکلات پر قابو پانا اور صبر کرنا آسان ہو جاتا ہے، حوصلہ افزائی کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ وہ کام جو ہم خود نہیں کر سکتیں کسی کو حوصلہ دے کر وہ کام کروا سکتی ہیں۔ حوصلہ افزائی نیکیوں کی رغبت اور برائیوں سے بچنے میں مدد کرتی ہے، مثلاً کسی کے نیک کام کرنے پر اس کی حوصلہ افزائی کی جائے تو ہو سکتا ہے وہ گناہوں سے توبہ کر لے۔ مگر افسوس! آج کل اگر کوئی نیکی کا کام کر لے تو بلا وجہِ شرعی اس کے گناہ یاد دلا کر شرمندہ کیا جاتا ہے مثلاً فلاں فاتحہ خوانی تو ہر بزرگ کی کرتی ہے،نفل روزے بھی بہت رکھتی ہے،مگر فرض نمازوں کا کوئی ٹھکانا نہیں ہے، اصلاح کا یہ انداز بالکل درست نہیں، اس کے بجائے اگر اس کی یوں حوصلہ افزائی کی جائے کہ آپ کی بزرگانِ دین سے محبت بہت قابلِ تحسین ہے!کیا ہی اچھا ہو کہ بزرگانِ دین کی نیاز دلانے کے ساتھ ان کے اقوال اور تعلیمات پر بھی عمل کریں، یقیناً ان کی تعلیمات میں سب سے اہم چیز فرائض کی ادائیگی ہے جس کے بغیر ان سے محبت کا دعویٰ ادھورا رہ جاتا ہے، لہٰذا نیت کیجئے کہ آئندہ کوئی نماز قضا نہیں ہو گی، فرض روزوں میں کوتاہی نہیں ہو گی! یوں اگر اچھے انداز سے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ترغیب دلائی جائے تو رزلٹ اچھا ملنے کی امید ہے۔

البتہ! یاد رہے کہ حوصلہ افزائی دین و دنیا کے ہر کام میں فائدہ مند ثابت ہوتی ہے، مگر غیر شرعی اور گناہ کے کاموں میں حوصلہ افزائی گناہ پر مدد کے زمرے میں آتی ہے جو جائز نہیں، لہٰذا حوصلہ افزائی سے پہلے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ جس بات پر کسی کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں وہ کام واقعی ایسا ہے کہ اس پر حوصلہ افزائی کی جائے یا نہ کی جائے۔

حوصلہ افزائی کی صورتیں

جائز تعریف کرکے: حوصلہ افزائی سچی اور جائز تعریف کر کے بھی کی جا سکتی ہے اور ایسا کرنا حضور نبی پاک  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم  کی سیرت مبارکہ سے بھی ثابت ہے۔ جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر    رضی اللہُ عنہما   نے ایک اچھا خواب دیکھا تو حضور نے ارشاد فرمایا: عبد اللہ بڑا اچھا آدمی ہے! کاش یہ رات کو نماز پڑھا کرے۔([2])اسی طرح حضرت معاذ بن جبل  رضی اللہُ عنہ  کے ایک سوال پر ارشاد فرمایا: شاباش! شاباش! تو نے عظیم چیز کے بارے میں سوال کیا۔([3]) جنگ اُحد کے موقع پر حضرت سعد    رضی اللہُ عنہ     سے فرمایا:(اے سعد!کفار کو)تیر مار!میرے ماں باپ تجھ پر قربان۔([4]) سبحٰن اللہ! ساری کائنات اپنا سب کچھ حبیب کریم  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم  پر قربان کرتی ہے اور یہاں اتنے پیارے انداز میں اپنے صحابی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ میرے ماں باپ تجھ پر قربان!

اگر ہمارے یہاں ایک دوسروں کی حوصلہ افزائی کا ذہن عام ہو جائے تو اس کے فوائد ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں گی، گھر میں ساس بہو کی حوصلہ افزائی کرے  مثلاً اپنے بیٹے سے بہو کی  موجودگی میں کہے کہ تمہاری زوجہ نے تو میرا کام ہی آسان کر دیا  ہے، ما شاء اللہ سارا کام دیکھ لیتی ہے یا بہو کے میکے والوں کے سامنے اپنی بہو کی حوصلہ افزائی کے لئے اس کی تعریف کرے۔ یونہی بہو بھی ساس کی تعریف کرے مثلاً یوں کہے کہ مجھے تو کھانا پکانے کا طریقہ امی نے ہی سکھایا ہے، امی میرا بہت ساتھ دیتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔بہرحال جو بھی سچی تعریف ہو دل کھول کر کیجئے ان کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

یوں ہی کسی نے نیکی کا کام کیا تو اس نیکی کے بارے میں قرآن و حدیث میں وارد خوش خبریاں سنا کر دعائے خیر کر کے بھی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے۔ اگر دعا دینے کی عادت بنا لی جائے تو اس سے بھی سامنے والی کا دل بڑا ہوتا ہے حوصلہ ملتا ہے۔ گھر میں بہو کو دعائیں دیجیے، پوتا پوتی، نواسا نواسی، بہن بھائی اگر کوئی اچھا کام کریں تو دعاؤں سے نوازئیے، ان شاء اللہ اس کے بہترین نتائج ملیں گے۔

عمل  کے ذریعے: حوصلہ افزائی کی عملی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ تھپکی دیجئے، خوشی سے مسکرا کر دیکھئے، چھوٹی بہن، بیٹی یا بہو کے چہرے کو پیار سے تھپتھپائیے،یہاں تک کہ آنکھوں کے اشارے سے بھی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے، نیز کسی کو حقیر نہ جاننا اور اسے عزت دینا بھی حوصلہ افزائی ہی کی مثال ہے۔ جیسا کہ پیارے آقا  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم  کو جنگِ تبوک کے موقع پر جنگی تیاریوں کے لئے مال کی ضرورت پیش آئی تو صحابۂ کرام نے خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنے اموال بارگاہِ نبوت میں پیش کئے۔ حضرت ابو عقیل انصاری   رضی اللہُ عنہ    جو بہت ہی مفلس تھے، فقط ایک صاع(3کلو840 گرام)کھجور لے کر حاضرِ خدمت ہوئے اور گزارش کی:یا رسول اللہ  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم ! میں نے دن بھر پانی بھرنے کی مزدوری کی تو 2 صاع کھجوریں مزدوری میں ملیں۔ ایک صاع اہل و عیال کو دے دی ہیں اور یہ ایک صاع حاضرِ خدمت ہیں۔حضور کا مبارک دل اپنے ایک مفلس صحابی کے اس نذرانۂ خلوص سے بےحد متاثر ہوا اور آپ نے ان کھجوروں کو تمام مالوں کے اوپر رکھ دیا۔([5])  بلاشبہ یہ حوصلہ افزائی کی ایک بہترین عملی مثال ہے۔

تحفہ دے کر: اپنے ہی گھر میں دیورانی، جیٹھانی، نند، بہو کو تحفہ دے کر بھی حوصلہ افزائی کیجئے،مثلاً:آپ بیمار ہو گئیں یا بچے کی ولادت ہوئی،ان حالات میں نند نے آپ کے بچے کو بھی سنبھالا اور آپ کا گھر بھی تو تحفہ دے کر ان کی حوصلہ افزائی کیجیے اور دل میں خوشی داخل کر کے ثواب کمائیے۔

کاموں میں حصہ لے کر: کسی کو کوئی کام دیں تو خود بھی اس میں اپنا حصہ ڈالیں اس سے بھی بہت اچھا اثر پڑتا اور حوصلہ افزائی ہوتی ہے  مثلاً گھر میں کوئی تقریب ہو تو صرف سب کو حکم دینے کے بجائے اپنے لیے بھی کوئی کام منتخب کیجئے، پیارے آقا  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم شہنشاہِ کون و مکاں ہو کر صحابہ کرام میں کی حوصلہ افزائی کے لیے خود بھی ان کے ساتھ کام میں شریک ہوتے مثلاً ایک سفر میں کھانا پکانے کے لئے سب میں ذمہ داریاں تقسیم کیں اور خود لکڑیاں جمع فرمانے کا کام کیا۔([6])

مشوروں میں شریک کر کے: گھر کے کام  ہوں یا اخراجات وغیرہ کسی بھی حوالے سے والدہ یا گھر کی سربراہ کا بہو بیٹیوں وغیرہ سے مشورہ کرنا اور ان کی طرف سے ملنے والے معقول مشوروں کو قبول کرنا نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی کا سبب ہو گا بلکہ ان کے مشوروں کے فوائد بھی حاصل ہوں گے۔پیارے آقا  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم  کامل و اکمل عقل والے ہونے کے باوجود صحابہ کرام سے مشورہ فرمایا کرتے اور ان کی حوصلہ افزائی کی غرض سے ان کے مشوروں کو قبول بھی فرماتے، جیسا کہ غزوۂ خندق میں آپ نے حضرت سلمان فارسی  رضی اللہُ عنہ  کے مشورے کو ([7])اور غزوہ بدر میں حضرت خباب بن منذر  رضی اللہُ عنہ  کے مشورے کو قبول فرما کر ان کی حوصلہ افزائی فرمائی۔([8]) مگر انتہائی افسوس ہے کہ ہمارے یہاں گھر میں چھوٹی بیٹی یا بیٹے کے رشتے کی بات چل رہی ہو یا کوئی اور مسئلہ ہو تو اکثر گھروں میں بہو کو اس معاملے سے بالکل الگ رکھا جاتا ہے، بلکہ اس بات کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے کہ اسے خبر نہ ہو، بعد میں جب اسے پتا چلتا ہے تو بیچاری کا دل ٹوٹتا ہے یا کہیں بہو کا زور ہو تو وہ گھر کے معاملات میں کسی سے مشورہ کرتی ہے نہ خبر دیتی ہے۔ اگر مشوروں میں سب کو شریک رکھا جائے تو اس سے حوصلہ افزائی ہونے کے ساتھ ساتھ مفید مشورے گھر کی تعمیر و ترقی کے لیے بھی کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔

ہمت بڑھا کر: شادی شدہ ہوں تو شوہر کا حوصلہ بڑھائیے، کبھی کاروبار میں گھاٹا ہو، نوکری چھوٹ جائے تو کہئے کہ کوئی بات نہیں،آپ نے اتنے سال اتنا اچھا گھر چلایا ہے ابھی اگر تھوڑی پریشانی آ بھی گئی تو حوصلہ بلند رکھئے،پھر سے کوشش کیجئے، آپ کا سالوں کا تجربہ ہے، ان شاء اللہ پھر کامیابی ہو گی۔ ایسے الفاظ ہمت باندھتے ہیں اور گرتوں کے سہارے کا سبب بنتے ہیں۔

کاوشوں کو سراہنا بھی حوصلہ افزائی ہی ہے، کبھی بھی کسی کی دل شکنی نہ کیجیے کہ آپ کے چند جملے کسی کی زندگی بدل سکتے ہیں۔میں ہوں نا،آپ کوشش تو کیجیے،آپ کر سکتی ہیں، کوشش کیجئے،ہو جائے گا، پریشان نہ ہوں وغیرہ وغیرہ جملوں کو اپنی بول چال میں شامل کیجیے، ان شاء اللہ اس کا فائدہ ہو گا۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* رکن انٹرنیشنل افئیرز ڈیپارٹمنٹ



[1] کیمیائے سعادت،2/ 532

[2] بخاری، 2/544، حدیث: 3739

[3] مسند ابو داود الطیالسی، ص 76، حدیث: 560

[4] بخاری، 3/37، حدیث: 4055

[5] مدارج النبوۃ، 2/346

[6] اتحاف السادۃ المتقین،  8/210

[7] طبقات کبریٰ، 2/51

[8] دلائل النبوۃ للبیہقی، 3/35 ملخصاً


Share