سلسلہ: تفسیرِ قرآنِ کریم
موضوع: یاجوج ماجوج
*اُمِّ حبیبہ عطاریہ مدنیہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرمانِ خداوندی ہے:
قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا(۹۴) (پ16،الکہف:94)
ترجمہ:انہوں نے کہا،اے ذو القرنین! بیشک یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد مچانے والے لوگ ہیں تو کیا ہم آپ کے لیے کچھ مال مقرر کر دیں اس بات پر کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنا دیں۔
تفسیر
یاجوج ماجوج بالاتفاق حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں البتہ ان کے نسب میں اختلاف ہے۔ یہ دو مرد ہیں جو حضرت یافث بن نوح کے بیٹے ہیں۔([1]) ایک قول کے مطابق یاجوج ماجوج دو انسانی قبیلوں کے نام ہیں۔([2]) یہ تمام لوگ کافر ہیں۔([3]) کیونکہ ایک روایت کے مطابق معراج کی رات اللہ پاک نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو یاجوج ماجوج کی طرف بھیجا، حضور نے انہیں اللہ پاک کے دین کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ لہٰذا حضور نے ارشاد فرمایا کہ وہ جہنم میں حضرت آدم علیہ السلام کی نافرمان اولاد اور ابلیس کی اولاد کے ساتھ ہوں گے۔([4])
یا جوج ماجوج کا حلیہ
ان کے سر کتوں کی طرح ہیں۔ یہ ایک دوسرے کو کبوتروں کی طرح بلاتے اور کتوں کی طرح بھونکتے ہیں۔([5])ان میں بعض کے سینگ، دم اور لمبے لمبے دانت ہیں جن سے وہ گوشت کھاتے ہیں۔منقول ہے کہ ان میں بعض کا قد صرف ایک بالشت، بعض بہت لمبے اور بعض چار گز لمبے اور چار گز چوڑے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہُ عنہ سے منقول ہے: ان کے چرندوں جیسے پنجے اور درندوں جیسے دانت ہیں اور ان کے لمبے لمبے بال ہیں جو انہیں گرمی ، سردی سے بچاتے ہیں، ان میں سے بعض کے کان اتنے لمبے ہیں کہ ایک کان میں گرمی اور دوسرے میں سردی بسر کرتے ہیں اور بعض سوتے وقت ایک کان نیچے بچھا کر دوسرا اوپر اوڑھ لیتے ہیں اور جو کوئی ان میں سے مرجائے اس کو کھا جاتے ہیں۔([6])
یاجوج ماجوج کی تعداد
حضرت عبدہ بن ابولُبَابہ رحمۃ اللہِ علیہ سے یاجوج ماجوج کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: ہمارے ایک شخص کے مقابلے میں ان کی تعداد ایک ہزارہو گی۔([7]) عمدۃ القاری میں ہے: اگر تمام انسانوں کو دس حصوں میں تقسیم کیا جائے تو ان میں سے نو حصے یاجوج ماجوج ہوں گے اور ایک حصہ بقیہ لوگ۔([8])یہ اللہ پاک کی ایک ایسی مخلوق ہیں جن کی سال میں اتنی تیزی سے نشو و نما ہوتی ہے کہ اتنی تیزی سے کسی دوسری مخلوق کی نشوو نما نہیں ہوتی۔ان کے 40 گروہ ہیں جن کی فطرت ایک دوسرے سے نہیں ملتی اور ہر گروہ کا بادشاہ اور زبان الگ الگ ہے۔یہ بھی مروی ہےکہ یاجوج ایک گروہ ہے اور ماجوج چار سو گروہ ہیں، ہر گروہ میں چار لاکھ افراد ہیں اور ان میں کوئی نہیں مرتا جب تک اپنی پشت سے ایک ہزار ایسے مرد نہ دیکھ لے جو ہتھیار نہ اٹھا لیں۔ ([9])
یاجوج ماجوج کی غذا
حضرت کعبُ الْاحبار رحمۃ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: اژدھا سانپ ہی ہوتا ہے، جب یہ زمین والوں کو تکلیف دیتا ہے تو اللہ پاک اسے خشکی سے اٹھا کر سمندر میں پھینک دیتا ہے۔پھر اگر سمندری جانور بھی اس سے خوف زدہ ہوتے ہیں تو اللہ پاک کسی(فرشتے)کو بھیجتا ہے جو اسے سمندر سے اٹھا کر خشکی پر یاجوج ماجوج تک پہنچا دیتا ہے، تو اللہ پاک اس اژدھے کو ان کا رزق بنا دیتا ہے۔([10])وہ اسے گائے کی طرح ذبح کر دیتے ہیں۔([11])اسی طرح یہ کچا گوشت، شکار،([12])پیدائش کے وقت بچہ کے ساتھ نکلنے والی جھلیوں([13])کھیتیوں، سبزیوں، آدمیوں، درندوں، وحشی جانوروں، سانپوں اور بچھوؤں تک کو کھا جاتے تھے۔([14])
یاجوج ماجوج کے سامنے دیوار بنانا
کئی ہزار سال پہلے روئے زمین پر اللہ پاک کے ایک ولی کی حکومت تھی جن کا نام اِسْکَنْدَرْ جبکہ لقب ذُوْ الْقَرْنَیْن تھا، وہ حضرت خضر علیہ السلام کے خالہ زاد بھائی تھے۔([15])انہیں پوری دنیا کی بادشاہت اور مشرق و مغرب کے سفر کا اعزاز بھی حاصل تھا۔([16])جب حضرت ذو القرنین شمال کی جانب انسانی آبادی ختم ہو جانے والے مقام پر پہنچے تو وہاں دو بڑے عالیشان پہاڑ دیکھے جن کے اُس طرف یاجوج ماجوج کی قوم آباد تھی جو ان پہاڑوں کے درمیانی راستے سے نکل کر قتل و غارت کیا کرتی تھی،یہ جگہ ترکستان کے مشرقی کنارے پر واقع تھی۔ جبکہ دوسری طرف ایک ایسی قوم تھی جن کی زبان عجیب و غریب تھی۔([17]) حضرت ذو القرنین جب وہاں پہنچے تو ان لوگوں نے آپ سے عرض کی: یاجوج و ماجوج فسادی لوگ ہیں ، آپ ہمارے اور ان کے درمیان کوئی ایسی دیوار بنا دیں کہ وہ ہم تک نہ پہنچ سکیں اور ہم ان کے شر سے محفوظ رہیں اور اس کے لئے ہم آپ کی خدمت میں اپنی حیثیت کے مطابق کچھ مال بھی پیش کریں گے۔([18])اس پر آپ نے ان سے فرمایا: اللہ پاک کے فضل سے میرے پاس کثیر مال اور ہر قسم کا سامان موجود ہے تم سے کچھ لینے کی حاجت نہیں، البتہ تم جسمانی قوت کے ساتھ میری مدد کرو اور جو کام میں بتاؤں وہ کرو گے تو میں ایک مضبوط رکاوٹ بنا دوں گا۔([19])چنانچہ آپ نے لوگوں کی درخواست پر بنیاد کھدوائی، جب پانی تک پہنچ گئی تو اس میں پگھلے ہوئے تانبے سے پتھر جمائے گئے اور لوہے کے تختے اوپر نیچے چن کر ان کے درمیان لکڑی اور کوئلہ بھروا کر آگ لگا دی، اسی طرح یہ دیوار پہاڑ کی بلندی تک اونچی کر دی گئی اور اوپر سے پگھلا ہوا تانبہ دیوار میں ڈال دیا گیا یہ سب مل کرایک انتہائی سخت جسم ہو گیا، اس کی لمبائی سو گز اور چوڑائی پچاس گز ہے۔([20])جب آپ نے دیوار مکمل کر لی تو یاجوج ماجوج آئے اور اس دیوار پر چڑھنا چاہا مگر اس کی بلندی اور ملائمت کی وجہ سے چڑھ نہ سکے، پھر انہوں نے نیچے سے اس میں سوراخ کرنے کی کوشش کی تو اس دیوار کی سختی اور موٹائی کی وجہ سے اس میں سوراخ بھی نہ کر سکے۔([21])
جب قیامت آنے کا وقت قریب ہو گا تو یاجوج ماجوج کو روکنے والی دیوار کو کھول دیا جائے گا اور وہ زمین کی ہر بلندی سے تیزی کے ساتھ لوگوں کی طرف اترتے ہوئے آئیں گے۔([22])ایک قول یہ ہے کہ قتلِ دجّال کے بعد جب لوگ امن و امان کی زندگی بسر کر رہے ہوں گے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حکم ہوگا کہ مسلمانوں کو کوہِ طور پر لے جاؤ اس لیے کہ کچھ لوگ ایسے ظاہر ہو ں گے جن سے لڑنے کی کسی میں طاقت نہیں، چنانچہ آپ لوگوں کو لے کر قلعہ طور پر پناہ گزین ہو ں گے کہ یا جوج ماجوج ظاہر ہوں گے۔ ([23])اور ان کا یہ نکلنا قُربِ قیامت کی علامات میں سے ہے۔([24]) ایک روایت میں ہے کہ حضور نے ارشاد فرمایا: آج یاجوج ماجوج کی دیوار اتنی کھل چکی ہے اور اپنے ہاتھ مبارک سے 90 کا ہندسہ بنایا۔([25]) لہٰذا جب ان کے نکلنے کا وقت ہو گا تو اللہ پاک حضرت جبرئیل علیہ السلام کو زمین پر بھیجے گااور وہ چھ چیزوں کو زمین سے اُٹھا کر آسمان کی طرف لے جائیں گے: قرآنِ مجید، تمام علوم، حجرِ اسود، مقامِ ابراہیم،تابوتِ موسیٰ اور پانچ نہریں ( جَیحون،سَیحون،دِجلہ، فُرات اور نَیل)۔ جب یہ 6 چیزیں زمین سے اُٹھالی جائیں گی تو دین و دنیا کی برکتیں روئے زمین سے اُٹھ جائیں گی اور لوگ ان برکتوں سے بالکل محروم ہو جائیں گے۔([26])
نیزایک روایت میں ہے:یاجوج ماجوج روزانہ دیوار کھودتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ سورج کو غروب ہوتا دیکھتے ہیں تو ان کا سردار کہتا ہے: واپس چلو! ہم اسے کل صبح کھودیں گے۔ مگر دوسری صبح اللہ پاک اس دیوار کو پہلے سے بھی زیادہ مضبوط بنا دیتا ہے یہاں تک کہ جب ان کی مدت پوری ہو جائے گی اور اللہ پاک انہیں لوگوں پر بھیجنے کا ارادہ فرمائے گا تو وہ دیوار کھودیں گے یہاں تک کہ سورج کے غروب کے وقت ان کا سردار کہے گا: واپس چلو! ان شاء اللہ ہم اسے کل کھودیں گے!لہٰذا اس بار جب وہ دوبارہ صبح کے وقت اس دیوار کی طرف آئیں گے تو وہ اسی حالت میں ہو گی جس حالت میں وہ اسے چھوڑ کر گئے تھے، چنانچہ وہ اسے کھو دیں گے اور وہاں سے نکل کر سارا پانی پی جائیں گے، لوگ ان سے بچنے کے لیے قلعے میں بند ہو جائیں گے۔ پھر یاجوج ماجوج اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گئے، جب وہ تیران کی طرف واپس آئیں گے تو خون آلود ہوں گے، لہٰذا وہ کہیں گے: ہم نے زمین والوں پر بھی غلبہ حاصل کر لیا اور آسمان والوں پر بھی بلندی حاصل کر لی۔ اس وقت اللہ پاک ان کی گردنوں میں کیڑے پیدا کرے فرمائے گا اور ان کے ذریعے ان سب کو مار دے گا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! زمین کے تمام جانور ان کے گوشت کی وجہ سے موٹے تازے ہو جائیں گے اور ان کے تھن دودھ سے بھر جائیں گے۔([27])
یا جوج ماجوج کے مرنے کے بعد کیا ہوگا؟
ان کے مرنے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی پہاڑ سے اتریں گے تو دیکھیں گے کہ تمام زمین ان کی لاشوں اور بدبو سے بھری پڑی ہے یہاں تک کہ ایک بالشت زمین بھی خالی نہ ہو گی،آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ پھر دعا فرمائیں گے،اللہ پاک ایک سخت آندھی اور ایک خاص قسم کے پرندے بھیجے گا،وہ ان کی لاشوں کو جہاں اللہ پاک چاہے گا پھینک آئیں گے اور ان کے تیر و تر کش کو مسلمان سات برس تک جلائیں گے۔ پھر اس کے بعدبارش ہوگی جس سے زمین بالکل ہموار ہو جائے گی اور زمین کو حکم ہوگا کہ اپنی برکتیں اگل دے تو یہ حالت ہوگی کہ انار اتنے بڑے بڑے پیدا ہوں گے کہ ایک اَنار سے ایک جماعت کا پیٹ بھرے گا اور اس کے چھلکے کے سائے میں دس آدمی بیٹھیں گے اور دُودھ میں یہ برکت ہوگی کہ ایک اونٹنی کا دودھ جماعت کو کافی ہوگا اور ایک گائے کا دودھ قبیلے بھر کو اور ایک بکری کا خاندان بھر کو کفایت کر ے گا ۔([28])
حاصل شدہ سبق
1-زمین میں قتل و غارت کرنے والوں کاانجام ہلاکت ہے۔
2 -اللہ پاک ظالموں کو ایک دم قتل کرنے پر قادر ہے لیکن انہیں موقع دیتا ہے کہ توبہ کرلیں۔
3-کسی بھی جائز کام سے پہلے ان شاء اللہ کہنے کی عادت بنا لینی چاہیے اس کی برکت سے کام سر انجام ضرور پائے گا۔
4-مشہور محاورہ ہے:اچھے سنگ ترے یعنی جو ا چھوں کے ساتھ رہے تو ان شاء اللہ اس کا انجام بھی اچھا ہو گا۔
اللہ پاک تمام مسلمانوں کو یاجوج ماجوج سمیت ہر طرح کے فتنہ و فساد سے محفوظ فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* معلمہ جامعۃ المدینہ گرلز فیضانِ اُمِّ عطار گلبہار سیالکوٹ
[1] عمدۃ القاری،11/41،40
[2] تفسیر نسفی،ص726
[3] تفسیر صاوی،4/1218
[4] عمدۃ القاری، 11 / 42
[5] عمدۃ القاری،11/41
[6] عمدۃ القاری،11/41، 42ملخصاً
[7]حلیۃ الاولیاء،6/122،رقم:8033
[8] عمدۃ القاری،11/41
[9] عمدۃ القاری،11/41،42ملخصاً
[10] حلیۃ الاولیاء،6/24،رقم:7685
[11] عمدۃ القاری،11/42
[12] عمدۃ القاری،11/41ملخصاً
[13] عمدۃ القاری،11/42ملخصاً
[14] ہمارا اسلام،ص260
[15] تفسیر صاوی،4/1214
[16] تفسیرنسفی،ص661
[17] تفسیر روح البیان،5/296-297
[18] تفسیر خازن،3/225
[19] تفسیر نسفی،ص663-664
[20] تفسیر خازن،3/225،226ملخصاً
[21]تفسیر روح البیان،5/299
[22] تفسیر نسفی، ص726
[23] ہمارااسلام،ص260
[24] تفسیر خازن،3/226
[25] بخاری، 4/452، حدیث:7136،7135
[26] تفسیر صاوی،4/1360
[27] ابن ماجہ، 4/ 410 ، 409، حدیث:4080
[28]ہمارااسلام، ص261،260
Comments