سلسلہ: شرحِ حدیث
موضوع: دم، تعویذ اور جھاڑ پھونک
*بِنتِ کریم عطاریہ مدنیہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہُ عنہ نے اپنی زوجہ حضرت زینب رضی اللہُ عنہا کی گردن میں ایک دھاگا دیکھا تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ دم کیا ہوا دھاگا ہے تو آپ نے اسے لے کر توڑ دیا اور اس سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے دم اور تعویذات کو شرک قرار دیا ہے۔ ([1])
شرحِ حدیث
اللہ پاک نے بیماری پیدا فرمائی تو ساتھ میں اس سے نجات کے جو طریقے انسانوں کو سکھائے، ان میں سے ہر طریقہ اگرچہ اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے، مگر بیماری سے شفا صرف اللہ پاک کے حکم سے ہی ممکن ہے۔ چنانچہ علاج کے انہی طریقوں میں سے ایک طریقہ دم اور تعویذ بھی ہے ۔ دم سے مراد کچھ پڑھ کر پھونک دینا ہے اور اگر یہ دم کسی دھاگے وغیرہ پر کیا گیا ہو تو اسے گنڈا کہتے ہیں۔ جبکہ تعویذ سے مراد حفاظت کی دعا کرنا ہے، اسے تحریری دعا بھی کہا جا سکتا ہے، جس طرح زبانی دعا اللہ پاک کے حکم سے اثر کرتی ہے اسی طرح تحریری دعا بھی اللہ پاک کے حکم سے تاثیر رکھتی ہے۔
مذکورہ حدیث میں دھاگے سے مراد گنڈے کا نیلا دھاگا ہے جس پر جادوگر جادو کا دم کر کے مریض کو پہناتے ہیں، چونکہ ان کے دم میں مشرکانہ الفاظ اور بتوں کا توسل وغیرہ ہوتا ہے، اس لیے حضرت عبد اللہ بن مسعود نے اس گنڈے کے پہننے کو شرک قرار دیا اور حضرات صوفیائے کرام کے گنڈے جن میں وہ قرآنی آیات یا ماثورہ دعائیں پڑھ کر دم کر کے گرہ لگاتے ہیں بالکل جائز ہیں۔ ([2]) جیسا کہ حضرت عوف بنِ مالک اشجعی رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے کہ ہم دور ِ جاہلیت میں دم کرتے تھے تو ہم نے اس کے متعلق جب حضور سے پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ہم پر پیش کرو؛ جھاڑ پھونک میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ اس میں شرک نہ ہو۔([3]) بلکہ ایک روایت کے مطابق تو حضور نے خود بھی ایسا فرمایا، جیسا کہ حضرت ابنِ ثعلبہ رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے کہ حضور ان کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ! اللہ پاک سے میرے لیے شہادت کی دعا کیجیے۔ حضور نے انہیں چند بال لانے کا حکم ارشاد فرمایا، وہ بال لائے گئے تو حضور نے ان کی کلائی پر یہ بال باندھ دئیے۔ پھر اس میں پھونک ماری اور فرمایا:یا اللہ!ابنِ ثعلبہ کا خون مشرکین، منافقین پر حرام فرما دے۔([4])
ضروری وضاحت: مذکورہ حدیث پاک کے علاوہ بھی بعض روایات میں دم اور تعویذ وغیرہ سے منع کیا گیا ہے اور دم کروانے کو تَوَکُّل کے منافی قرار دیا گیا ہے لیکن یاد رہے کہ اس طرح کی احادیثِ مبارکہ میں مطلقاً ممانعت مراد نہیں، بلکہ علمائے کرام نے اس کے مختلف معانی بیان فرمائے ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
Ü ممانعت ایسے تعویذ یا دم وغیرہ کی ہے کہ جس میں شرکیہ و کفریہ یا ممنوع کلمات ہوں، لہٰذا جس میں ایسی کچھ خلافِ شرع بات نہ ہو، اس کی ممانعت نہیں ہے۔
Ü اس سے مراد وہ دم وغیرہ ہے کہ جس میں کفار کے منتر وغیرہ میں سے کچھ شامل ہو یا وہ ایسے کلمات پر مشتمل ہو کہ جس کا معنیٰ ہی معلوم نہ ہو، کیونکہ اس صورت میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ ہو سکتا ہےاس کا معنیٰ کفریہ ہو، لہٰذا اس سے بھی ممانعت فرمائی۔
Ü ممانعت ان لوگوں کے متعلق ہے کہ جو اس تعویذ وغیرہ کو مؤثِّرِ حقیقی سمجھتے ہیں، حالانکہ مُؤثِّر حقیقی اللہ پاک ہے، تعویذ وغیرہ ذرائع و اسباب سے متعلق ہوتے ہیں۔یا ممانعت ایسی چیزوں سے متعلق ہے کہ جن چیزوں کے متعلق کفار کے ذہن میں تاثیر کا عقیدہ راسخ ہو چکا تھا۔
Ü ممانعت والی روایات سے مراد شیطانی منتر یا جادو ہے یا ایسا عمل ہے کہ جسے کسی ناجائز کام کے لیے کیا جائے جیسے میاں بیوی میں جدائی وغیرہ کروانے کے لیے۔
Ü پہلے اس کی ممانعت تھی، لیکن بعد میں جائز کلمات پر مشتمل تعویذات وغیرہ کی اجازت دیدی گئی یعنی ممانعت والی روایات منسوخ ہیں اور اجازت والی ناسخ ہیں۔([5])
دم اور تعویذ کا مقصد اللہ پاک کے پاکیزہ کلمات سے شفا حاصل کرنا ہوتا ہے اور جس طرح دوا اللہ پاک کے حکم سے شفا دیتی ہے اسی طرح اللہ پاک کا ذکر اور اس کا پاکیزہ کلام بھی اس کے حکم سے شفا دیتا ہے، جیسا کہ اللہ پاک کا فرمان ہے: وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَۙ- (پ15،بنی اسرآءیل:82)
ترجمہ: اور ہم قرآن میں وہ چیز اتارتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے۔ یعنی قرآن روحانی امراض مثلاً برے عقائد و اخلاق سے اور جسمانی امراض سے شفا دیتا ہے کیونکہ اس کی تلاوت میں برکت اور بیماری سے شفا ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی اس بات کا ذکر موجود ہے۔ جیسا کہ ایک روایت میں ہے: جو قرآنِ کریم سے شفا حاصل نہ کرے تو اسے اللہ پاک شفا نہیں دیتا۔([6]) اور ایک روایت میں ہے: قرآن بہترین دوا ہے۔([7]) یہ بات حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہُ عنہ بخوبی جانتے تھے اور ایسا ان کے عمل سے بھی ثابت ہے، جیسا کہ مروی ہے کہ آپ نے ایک بیمار کے کان میں کچھ پڑھا تو وہ ٹھیک ہو گیا۔ حضور نے ان سے جب پوچھا کہ اس کے کان میں کیا پڑھا ہے؟ تو انہوں نے عرض کی: میں نے سورۂ مومنون کی آخری چار آیات پڑھی ہیں۔ اس پر حضور نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی یقین والا شخص ان آیات کو پہاڑ پر پڑھے تو وہ بھی اپنی جگہ سے ہٹ جائے۔([8])
یقیناً الفاظ اثر رکھتے ہیں اس کا مشاہدہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں بھی کرتے ہیں۔ کوئی انسان کسی دوسرے کو برا بھلا کہے، گالی دے تو وہ فوراً آگ بگولہ ہو جاتا اور اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو جاتا ہے۔ یونہی نرمی اور پیار کے دو بول سامنے والے پر ایسا اثر کرتے ہیں کہ وہ گرویدہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جب انسان کے الفاظ میں ایسی تاثیر ہے کہ چاہیں تو دل جیت لیں اور چاہیں تو دل چیر دیں تو اس پاک پروردگار کے کلام میں کیسی تاثیر ہو گی جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے! لہٰذا اگر قرآن پاک کی کوئی آیت یا ذکر اللہ پر مشتمل کوئی اور کلام پڑھ کر پھونکا جائے تو یقیناً اثر کرتا ہے۔اس کا انکار کرنے والوں کو وہی جواب دینا بہتر ہے جو حضرت شیخ ابو سعید ابو الخیر قُدِّسَ سِرُہُ الْعَزِیْز نے ایک مُلْحِد (بے دین) کو دیا،جس نے تعویذات کے اثر میں کلام کیا۔ حضرت قُدِّسَ سِرُہُ نے فرمایا:تو عجیب گدھا ہے۔ وہ دنیوی طور پر بڑا معزز بنتا تھا یہ لفظ سنتے ہی اس کا چہرہ سرخ ہو گیا اور گردن کی رگیں پھول گئیں اور بدن غیظ سے کانپنے لگا اور حضرت سے اس فرمانے کا شاکی ہوا، فرمایا: میں نے تو تمہارے سوال کا جواب دیا ہے گدھے کے نام کا اثر تم نے مشاہدہ کر لیا کہ تمہارے اتنے بڑے جسم کی کیا حالت کر دی لیکن مولیٰ عزوجل کے نام پاک میں اثر سے منکر ہو۔([9])
یاد رکھئے! شریعت میں ایسے تعویذات اور دم وغیرہ کی اجازت ہے جو آیات و احادیث پر مشتمل ہوں یا ایسے کلمات پر مشتمل ہوں کہ جن میں کوئی شرک وغیرہ خلافِ شرع بات نہ ہو۔ البتہ اگر دم یا تعویذ کسی بھی خلافِ شرع بات یا ایسے الفاظ پر مشتمل ہو جس کا معنی ہی معلوم نہ ہو تو ایسے تعویذات وغیرہ کی اجازت نہیں ہے۔ جیسا کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: عملیات و تعویذِ اسمائے الٰہی و کلامِ الٰہی سے ضرور جائز ہیں جبکہ ان میں کوئی طریقہ خلافِ شرع نہ ہو۔ مزید فرماتے ہیں کہ نفسِ عمل یا تعویذ میں کوئی امر خلافِ شرع ہو یا مقصود میں؛ تو نا جائز ہے ورنہ جائز بلکہ نفعِ رسانیِ مسلم کی غرض سے محمود و موجبِ اجر۔([10])جیسا کہ حضرت اسود بن یزید رحمۃ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: میں نے اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا سے زہریلے جانوروں کے کاٹنے پر دم کرنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ حضور نے اس کی اجازت دی ہے۔([11])بلکہ بعض صورتوں میں تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے خود ایسا کرنے کی ترغیب بھی دلائی، جیسا کہ ایک روایت میں ہے: ام المومنین حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہُ عنہا کے گھر میں ایک لڑکی کے چہرے پر زردی دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے دم کراؤ، کیونکہ اسے نظر لگی ہوئی ہے۔([12]) اور اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتا ہے کہ خود حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کبھی بیمار ہوتے تو حضرت جبریل علیہ السلام آپ کو دم کیا کرتے تھے۔([13])صحابہ کرام چونکہ حضور کے تربیت یافتہ تھے، اس لئے وہ حضور کی حیاتِ مبارکہ میں بھی دم کی اہمیت سے واقف تھے اور ایسا کیا بھی کرتے تھے، جیسا کہ ایک مشہور روایت میں ہے کہ 30 صحابہ کرام سفر پر تھے، راستے میں ایک مقام پر کسی نے ان سے عرض کی: ہمارے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا ہے، کیا آپ کچھ کر سکتے ہیں؟ تو ایک صحابی نے دم کے بدلے کچھ معاوضے کی شرط پر ہامی بھر لی اور پھر جب سورۂ فاتحہ پڑھ کر مریض کو دم کیا تو مریض ٹھیک ہو گیا اور جب معاوضے کی بکریاں لے کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور مسکرائے اور ارشاد فرمایا: وہ سب بکریاں لے لو اور میرا حصہ بھی رکھو۔([14])
تعویذ گلے میں لٹکانے کا جواز: ترمذی شریف کی روایت میں ہے: جب تم میں سے کوئی نیند میں ڈر جائے تو یہ کلمات پڑھے: اَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَ عِقَابِهِ وَ شَرِّ عِبَادِهِ، وَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَ اَنْ يَحْضُرُون۔ تو شیاطین ہرگز نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ چنانچہ حضرت عبدُ اللہ بن عَمْرو رضی اللہُ عنہ اپنی بالغ اولاد کو یہ کلمات پڑھنے کی تلقین کرتے اور نابالغوں کے گلے میں کسی کاغذ پر لکھ کر ڈال دیتے تھے۔([15]) چنانچہ یہی وجہ ہے کہ کئی بزرگانِ دین سے تعویذ لکھ کر گلے میں ڈالنے کے جواز کے متعلق مروی ہے، مثلاً حضرت سعید بن مسیب رحمۃ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:قرآنی تعویذ کو کسی ڈبیہ یا کاغذ میں لپیٹ کر لٹکانے میں کوئی حرج نہیں، جبکہ تعویذ کو جماع اور بیت الخلاء جاتے وقت اتار دیا جائے۔ امام باقر رحمۃ اللہِ علیہ نے بچوں کو تعویذ لٹکانے کی رخصت دی ہے۔ امام ابنِ سیرین رحمۃ اللہِ علیہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ قرآن میں سے کچھ لکھ کر انسان کے گلے میں لٹکایا جائے۔([16])
تعویذات گھول کر پینے کا ثبوت: امام ابن الحاج رحمۃ اللہِ علیہ اپنی کتاب مدخل میں فرماتے ہیں:شیخ ابو القاسم قشیری رحمۃ اللہِ علیہ سے منقول ہے کہ آپ کا بیٹا شدید بیمار ہو گیا، فرماتے ہیں: یہاں تک کہ میں اس سے مایوس ہو گیا اور یہ معاملہ مجھ پر سخت ہو گیا۔ میں نے خواب میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زیارت کی اور میں نے اپنے بیٹے کی بیماری کا عرض کیا تو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: تم آیاتِ شفا سے شفا حاصل کیوں نہیں کرتے؟ فرماتے ہیں: میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے غور کیا تو وہ کتاب اللہ میں چھ جگہوں پر تھیں اور وہ یہ ہیں:
1 وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ(۱۴) (پ10،التوبہ:14)
2 لِّمَا فِی الصُّدُوْرِۙ۬-(پ11، یونس:57)
3یَخْرُ جُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِؕ- (پ14، النحل:69)
4وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَۙ- (پ15،بنی اسرآءیل:82)
5وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِﭪ(۸۰)(پ19،الشعراء:80)
6قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌؕ- (پ 24،حمٓ السجدۃ:44)
فرماتے ہیں:میں نے ان آیات کو ایک کاغذ میں لکھا اور پانی میں گھول کر اپنے بیٹے کو پلا دیا۔ ایسا لگا گویا کہ اس کے پاؤں سے گرہ کھل گئی ہو یعنی اسے شفا مل گئی۔([17])
تعویذات کے آداب
قرآنی آیات اور اللہ پاک کے ذکر پر مشتمل کلمات کے تعویذات یقیناً فائدہ دیتے ہیں؛لیکن تعویذ پہننے یا کسی بھی طرح تعویذ استعمال کرنے والی، نیز دیگر اوراد و وظائف کرنے والی کو چاہیے کہ وہ تعویذات کے آداب کا بھی خیال رکھے تاکہ ان تعویذات کی تاثیر میں مزید اضافہ ہو۔ چند آداب و احتیاطیں پیشِ خدمت ہیں:
1) ذاتِ الٰہی پر پختہ یقین: وظیفہ کرنے، تعویذ استعمال کرنے، دم کروانے میں اللہ پاک کی ذات پر کامل یقین ہونا چاہیے اور یہ اعتقاد رکھنا چاہئے کہ ان شاءاللہ الکریم یہ دم، تعویذ، وظیفہ اللہ پاک کے حکم سے ضرور فائدہ دیں گے۔ کیونکہ اللہ پاک کی ذات پر بھروسا اور اعتقاد میں کمی کی صورت میں تعویذات وغیرہ کی تاثیر میں بھی کمی آ جاتی ہے۔
2)نمازوں کی پابندی: تعویذات استعمال کرنے یا کسی بھی مشکل و پریشانی کے حل کے لیے وظیفہ کرنے والی کو پنج وقتہ نماز کی بھی پابندی کرنا چاہئے کہ پنج وقتہ نماز کی پابندی خود سب سے بڑا وظیفہ ہے۔([18])
3)زبان کو گناہوں سے پاک رکھنا: اپنی زبان کو ذکرُ اللہ میں مصروف رکھئے اور گناہوں بھری باتوں مثلاً جھوٹ، غیبت اور چغلی وغیرہ سے محفوظ ر کھئے تاکہ زبان میں تاثیر پیدا ہو۔
4)باطن کو پاک رکھنا: اپنے ظاہر کے ساتھ ساتھ باطن کو بھی گناہوں کی گندگی سے پاک و صاف کرنا ضروری ہے۔اس کے لیے استغفار کی کثرت کیجئے۔
5)بھوک سے کم کھانا: بھوک سےکم کھانے کی بھی عادت بنائیے کہ پیٹ بھرا انسان دعا کی تاثیر سے محروم رہتا ہے۔
6)گیارہویں شریف کی نیاز دلوانا: تعویذ پہننے یا کوئی بھی وظیفہ کرنے سے پہلے بہتر ہے کہ حضور غوثِ پاک کی گیارہویں شریف کے لیے کم از کم گیارہ روپے کی یا جتنا ہو سکے نیاز کرے کہ ان بزرگوں کی برکت سے ان شاء اللہ تعویذات و وظائف کی تاثیر میں اضافہ ہو گا۔
تعویذ پہننے کی 3احتیاطیں
تعویذ پہننے کی احتیاطیں بھی پیشِ نظر رکھنی چاہئیں مثلاً
1)عورت سونے چاندی یا کسی بھی دھات کی ڈبیہ میں تعویذ پہن سکتی ہے لیکن مرد کے لیے سونے چاندی یا کسی دھات کی ڈبیہ میں تعویذ پہننا ہرگز جائز نہیں۔
2)تعویذ کپڑے وغیرہ میں سی کر بھی پہنا جا سکتا ہے لیکن بہتر ہے کہ چمڑے وغیرہ میں سلوا لیا جائے تاکہ محفوظ رہے۔
3)اگر تعویذ چمڑے یا کپڑے وغیرہ میں سلا ہوا نہ ہو تو بیتُ الخلاء جاتے وقت اسے اتار دیجئے۔ یونہی اللہ پاک یا کسی مقدس نام کا لاکٹ وغیرہ گلے میں ہو تو اسے بھی اتار دیجئے یا جیب وغیرہ میں رکھ لیجئے تاکہ بےادبی نہ ہو۔
تعویذ بےاثر کیوں ہو جاتے ہیں؟ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ تعویذات استعمال کرنے کے باوجود اثر نہیں ہوتا۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:
1)اعتقاد کی کمی۔2)نمازوں میں سستی۔3)ظاہر و باطن کو گناہوں سے نہ بچانا۔ 4) تعویذ کے اندر اگر پانی چلا جائے تو بھی تعویذ بےاثر ہو جاتا ہے۔لہٰذا تعویذ کی حفاظت کے لیے اسے چمڑے وغیرہ میں اچھی طرح سلوا لینا بہتر ہے۔5)تعویذ کو کھول کر دیکھنے سے اس کا اثر ختم ہو جاتا ہے کیونکہ ایسا کرنا اعتقاد میں کمی کی علامت ہے۔ جیسا کہ ایک شخص کو بخار آ گیا، اُس کے استاذِ محترم حضرت شیخ فقیہ ولی عمر بن سعید رحمۃ اللہِ علیہ عیادت کے لئے تشریف لائےاور جاتے ہوئے ایک تعویذ عنایت کر کے فرمایا: اس کو کھول کر دیکھنا مت۔ ان کے جانے کے بعد اس نے تعویذ باندھ لیا، فوراً بخار جاتا رہا۔ اس سے رہا نہ گیا، کھول کر جو دیکھا تو بسم اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم لکھی تھی۔ دل میں وسوسہ آیا کہ یہ تو کوئی بھی لکھ سکتا ہے! عقیدت میں کمی آتے ہی فوراً بخار لوٹ آیا۔ گھبرا کرحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور غلطی کی معافی چاہی۔ شیخ نے دوبارہ تعویذ بنا کر اپنے دستِ مبارک سے باندھ دیا، بخار فوراً چلا گیا۔ اب کی بار دیکھنے سے منع نہ فرمایا تھا مگر ڈر کے مارے کھول کر نہ دیکھا۔ بِالآخر سال بھر کے بعد جب کھول کر دیکھا تو وہی بسم اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم لکھی تھی۔([19])
اس حکایت سے یہ درس ملا کہ تعویذ کھول کر نہیں دیکھنا چاہیے کہ اس سے اعتقاد ڈگمگانے کا خطرہ رہتا ہے۔ پھر اسے تہ کرنے کے مخصوص طریقے کے ساتھ ساتھ لپیٹنے کے دوران بعض اوقات کچھ پڑھا ہوا بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا کھول کر دیکھنے سے اُس کے فوائد میں کمی آ سکتی ہے۔
خواتین کا مخصوص ایام میں تعویذ پہننا: اگر تعویذ کپڑے یا چمڑے وغیرہ میں سلا ہوا ہے تو خواتین ایامِ مخصوصہ میں اسے پہن سکتی ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں۔یونہی دم کی ہوئی ڈوری بھی کلائی وغیرہ پر باندھ سکتی ہیں۔البتہ قرآنی آیات پر مشتمل وظائف کرنے کی ان ایام میں اجازت نہیں، ا ن کے علاوہ دیگر وظائف وغیرہ کر سکتی ہیں۔
صرف دم، تعویذات وغیرہ پر بھروسا کرنا کیسا؟ خواتین کی ایک تعداد یہ کہتی ہے کہ ہم نے بہت وظائف کیے اور بڑے تعویذات استعمال کیے لیکن فائدہ ہی نہیں ہوتا۔ ان سے اگر پوچھا جائے کہ آپ نماز کتنے وقت کی پڑھتی ہیں یا دیگر نیکیاں کس قدر کرتی ہیں یا گناہوں سے کس قدر بچتی ہیں؟ تو شاید ان کے پاس سوائے خاموشی و شرمندگی کے کوئی جواب نہ ہو گا۔ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ انسان اللہ پاک کے احکامات کی پیروی کرے نہ فرائض و واجبات ادا کرے اور گناہوں میں زندگی گزارے، پھر یہ خواہش بھی کرے کہ میری دعاؤں میں اثر پیدا ہو۔ ذرا سوچئے کہ جس زبان سے ہر وقت جھوٹ، غیبت، چغلی، دل دکھانے اور دیگر گناہوں کا سلسلہ رہتا ہو اس زبان میں بھلا تاثیر کہاں سے آئے گی! لہٰذا وظائف ضرور کیجئے لیکن گناہوں سے بھی بچئے اور اپنی زندگی کو نیک کاموں میں گزارنے کی کوشش کیجئے۔اگر گھر میں نمازوں کی پابندی، قرآنِ پاک کی تلاوت، ذکر و درود وغیرہ کا سلسلہ رہے گا تو ان شاء اللہ الکریم بہت سی آفتیں، بلائیں، مصیبتیں، آزمائشیں اور بیماریاں خود ہی دور ہو جائیں گی۔
کتاب وغیرہ سے دیکھ کر کوئی وظیفہ کرنا کیسا؟ جب بھی کوئی وظیفہ کرنا ہو تو کسی مستند ذریعے سے حاصل کیا گیا وظیفہ ہی کرنا چاہئے۔ بعض وظائف کیلئے باقاعدہ اجازت کی ضرورت ہوتی ہے، لہٰذا کسی جامع شرائط پیر یا کسی بزرگ کی اجازت سے ہی وظائف شروع کئے جائیں ورنہ نقصان ہو سکتا ہے۔ جو لوگ کسی بھی غیر مستند کتاب یا سوشل میڈیا وغیرہ سے دیکھ کر وظیفہ کرنا شروع کر دیتے ہیں انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ انہیں اوراد و وظائف کی شرائط اور ضروری آداب جاننے کے لئے مکتبۃ المدینہ کی کتاب جنتی زیور صفحہ 573 تا 576کا لازمی مطالعہ کر لینا چاہیے۔دعوتِ اسلامی کے شعبہ روحانی علاج کے ذریعے چونکہ روحانی علاج کی سہولت بالکل مفت فراہم کی جاتی ہے۔ لہٰذا آپ اپنے مسائل کے حل کے لئے اس شعبے کے بستے سے رابطہ کر کے فی سبیل اللہ اوراد و وظائف اور تعویذات حاصل کر سکتی ہیں۔نیزمکتبۃ المدینہ کی کتاب مدنی پنج سورہ اور پردے کے بارے میں سوال جواب نیزان رسائل40 روحانی علاج مع طبی علاج،بیمار عابد، زندہ بیٹی کنویں میں پھینک دی،چڑیا اور اندھا سانپ، مینڈک سوار بچھو میں بھی کئی وظائف موجود ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* معلمہ جامعۃ المدینہ گرلز خوشبوئے عطار واہ کینٹ
[1]مشکاۃ المصابیح،2/147،حدیث:4552
[2] مراۃ المناجیح،6/235
[3] مسلم، ص931،حدیث:5732
[4] معرفۃ الصحابہ،5/51،رقم:7113
[5] احکام تعویذات مع تعویذات کا ثبوت،ص79تا81ملخصاً
[6] تفسیر غرائب القران،4/379
[7] ابن ماجہ،4/117،حدیث:3501
[8] مسند ابی یعلیٰ،4/345،حدیث:5023
[9] فتاویٰ رضویہ،24/207
[10] فتاویٰ رضویہ،24/197،196ملتقطا
[11] بخاری،4/32، حدیث:5741ملخصاً
[12] بخاری،4/32،31،حدیث:5739
[13] مسلم،ص927، حدیث:5699
[14] بخاری،4/30،31،حدیث:5736
[15] ترمذی،5/313،312،حدیث:3539
[16] تفسیر بحر محیط،6/73
[17]مدخل،2/327
[18] قسط:49کیا جنات غیب جانتے ہیں؟ ص19
[19] فیضانِ سنت، ص63 ملخصاً
Comments