بُری عادتیں(قسط7)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن

سلسلہ:حصولِ علمِ دین کی رکاوٹیں

موضوع:بری عادتیں (قسط 7)

*بنتِ افضل عطاریہ مدنیہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دینی تعلیم کو ادھورا چھوڑ جانے کی وجوہات ذکر کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے، ذیل میں بیان کردہ بُری عادت بھی ایسی ہی ہے جو حُصولِ عِلمِ دین میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔

بلا وجہ حاضری میں تاخیر کرنا

کام چاہے کوئی بھی ہو جب تک اس کے لیے باقاعدگی اور استقامت نہ پائی جائے کامیابی ملنا مشکل ہوتا ہے۔کامیابی پانے کے لیے اپنے وقت کو ضائع ہونے سے بچانا بے حد ضروری ہے، کیونکہ وقت کی پابندی کامیاب افراد کا شعار ہوتی ہے۔ناکام ہونے والے اسٹوڈنٹس کی ایک تعداد ایسی بھی ہوتی ہے جو وقت کی پابندی کو اہمیت نہیں دیتی، اگر کلاس میں آئیں گے بھی تو تاخیر سے پہنچیں گے اور اس موقع پر عام طور پر اپنا عذر کچھ یوں بیان کریں گے:صبح دیر سے آنکھ کھلی تھی، رات دیر سے سوئے تھے اور رات دیر تک جاگتے رہنے کی وجوہات کچھ یوں بتائی جاتی ہیں:کسی فنکشن میں شرکت تھی، اپنی یا فلاں کی طبیعت خراب تھی،بجلی بند ہونے یا مچھروں کی زیادتی کی وجہ سے رات بھر نیند نہ آئی۔اس کے علاوہ تاخیر کی ایک وجہ صبح  کے وقت غیر ضروری کاموں میں مشغول ہو جانا یا پھر روٹین کے کاموں کی ادائیگی مثلاً ناشتہ کرنے یا بنانے میں خواہ مخواہ وقت ضائع کرنا بھی ہے۔

ایسے اسٹوڈنٹس جب کلاس روم میں پہنچتے ہیں تو تاخیر کی وجہ پوچھنے پر بعض اوقات جھوٹے بہانوں کا سہارا بھی لیتے ہیں اور یوں بقیہ دن ذہنی پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں اور اگر زیادہ ہی دیر سے پہنچیں تو شروع کے اسباق کا حرج ہوتا ہے۔اگر شروع کا سبق سننے اور سمجھنے سے رہ گیا تو بعد والے سبق کو سمجھنا دشوار ہو جاتا ہے یا پھر ایسے اسٹوڈنٹس کے شروع کے سبق کے متعلق سوالات و جوابات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جس وجہ سے بقیہ سبق کو ایک مخصوص دورانیے میں مکمل کرنے میں آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے سبق اور وقت دونوں کی تقسیم کاری پر اثر پڑتا ہے۔

بسا اوقات بعض ٹیچرز اگرچہ ایسے اسٹوڈنٹس کی خیر خواہی کے لیے شروع کے سبق کو دہرا بھی دیتے ہیں  مگر ضروری نہیں کہ ایسا روزانہ ہی ہو، بہرحال تاخیر سے آنا اگر عادت میں شامل ہو چکا ہو تو یہ انتہائی بری عادت ہے اور حصولِ علم میں بہت بڑی رکاوٹ ہے، اگرچہ ایسے اسٹوڈنٹس امتحان میں پاس بھی ہو جائیں مگر جو اسباق تاخیر کی وجہ سے چھوٹ جائیں ان کے نقصان کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب زندگی میں انہیں خود وہ سبق پڑھانے کا موقع ملتا ہے یعنی وہ پڑھاتے ہوئے اپنے اندر ایک کمی ضرور محسوس کرتے ہیں۔

بلا وجہ چھٹیاں کرنا

کچھ اسٹوڈنٹس نئی کلاسز کے شروع میں ہی چھٹیاں کر لیتے ہیں۔جبکہ ان دنوں میں ٹیچرز عموماً علمی فن، کتاب اور صاحبِ کتاب سے متعلق اپنے تجربات اور بنیادی و اہم ترین معلومات اسٹوڈنٹس سے شئیر کر رہے ہوتے ہیں اور تاخیر سے آنے والے ان تمام برکتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔جبکہ کچھ اسٹوڈنٹس چھٹیاں کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ حالانکہ چھٹیاں کرنے سے تعلیم کا کتنا حرج و نقصان ہوتا ہے اس سے تو انکار ممکن ہی نہیں۔ایسے اسٹوڈنٹس ہر بیماری کو خوش آمدید کرنے کے لیے بھی گویا تیار ہی رہتے ہیں مثلاً کبھی دردِ سر جان نہیں چھوڑتا تو کبھی یہ خود بخار کو گلے لگائے ہوتے ہیں، کبھی کسی کی کمر میں درد ہورہا ہوتا ہے تو کبھی کسی کیس ٹانگیں تکلیف کی وجہ سے کانپ رہی ہوتی ہیں۔اگر خود ٹھیک ہوں تو گھر میں کسی فرد کو بیمار بنا لیتے ہیں کہ جن کی تیمار داری کے لیے بھی صرف انہوں نے ہی اپنی خدمات پیش کرنی ہوتی ہیں  وغیرہ۔نہیں تو پھر خاندان کی ہر غمی و خوشی  کی تقریب ان کی شرکت کے بغیر ادھوری رہ جاتی ہے۔کبھی خاندان کے دور کے رشتہ داروں کی شادیوں میں شرکت کرنے کے لیے کئی کئی دنوں کی چھٹی کر لیتے ہیں،کبھی کسی دور کے جاننے والے کے جنازے میں شرکت تو کبھی کسی کی قُل خوانی میں حاضری کے لیے چھٹیاں۔

الغرض تعلیمی ادارے سے چھٹیاں کر کے علمِ دین سے محرومی گوارا کر لیتے ہیں مگر ان تقریبات کو چھوڑنے سے باز نہیں آتے۔حالانکہ ایسے اسٹوڈنٹس کو امام ابو یوسف  رحمۃ اللہ علیہ کے اس عمل سے نصیحت حاصل کرنی چاہئے کہ ان کے بیٹے کا انتقال ہو گیا، مگر انہوں نے ایک شخص کو اسے دفن کرنے کی ذمہ داری سونپی اور خود امام اعظم ابو حنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ  کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے کہ کہیں آج کے سبق کا ناغہ نہ ہو جائے۔([1])

ایسے اسٹوڈنٹس کثرت کے ساتھ چھٹیاں کرنے کی وجہ سے پڑھائی میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں، جس دن کی چھٹی کی اس دن کے سارے اسباق کا نقصان تو ہوا ہی پھر اگلے دن ایسے اسٹوڈنٹس کے چہرے پہ ہوائیاں اڑ رہی ہوتی ہیں اور اس دن کا سبق سمجھنے میں بھی بہت مشکل پیش آتی ہے جبھی تو منقول ہے کہ ایک دن چھٹی کرنے سے 40 دن کے سبق کی برکت چلی جاتی ہے۔جب بہت زیادہ چھٹیاں کرنا معمول ہی بنا لیا جائے تو پھر ایسے اسٹوڈنٹس ناکامی سے کیسے بچ سکتے ہیں!

کامیاب اسٹوڈنٹس اور اہلِ علم کی سیرت پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے کس طرح استقامت اور باقاعدگی کے ساتھ علمِ دین سیکھا اور کامیابی پائی۔مثلاً  علمِ تجوید و قراءت کے بہت بڑے امام شعبہ بن عیاش بن سالم اسدی  رحمۃ اللہ علیہ  نے اپنے استاد ِمحترم امام عاصم کوفی  رحمۃ اللہ علیہ  سے قرآنِ کریم کی پانچ، پانچ آیات پڑھیں، گرمی سردی اور بارش میں بھی کبھی ناغہ نہ کیا اور تین سال مستقل مزاجی سے علمِ قراءت سیکھا۔([2])اسی طرح اعلیٰ حضرت  رحمۃ اللہ علیہ  کے متعلق منقول ہے کہ آپ نے بچپن سے ہی کبھی پڑھنے میں ضد نہ کی، خود سے برابر پڑھنے کو تشریف لے جایا کرتے، جمعہ ( چھٹی) کے دن بھی چاہا کہ پڑھنے کو جائیں،مگر والد صاحب کے منع فرمانے سے رک گئے اور سمجھ لیا کہ ہفتہ میں جمعہ کی بہت اہمیت کی وجہ سے نہیں پڑھنا چاہیے، باقی چھ دن پڑھنے کے ہیں۔([3])

مستقل مزاجی کامیاب لوگوں کا شعار ہوتی ہے۔لہٰذا اگر علمِ دین کی راہ میں ترقی پانا چاہتے ہیں تو سنجیدگی کے ساتھ ساتھ وقت کا پابند ہونا بے حد ضروری ہے، ورنہ ادھوری تعلیم کے ساتھ ساتھ ناکامی و محرومی استقبال کرے گی کہ بعض اوقات کسی معقول عذر کے بغیر چھٹیاں کرنے کی وجہ سے ادارے والوں کو داخلہ منسوخی کا نوٹس دینا پڑتا ہے جس سے حصولِ علم کے تسلسل کو برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔اگر چھٹیوں کے عادی اسٹوڈنٹس فارغ التحصیل بھی ہو جائیں تو زمانہ طالبِ علمی میں ان اوقات کے ضائع ہونے کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ عموماً ایسے فارغ التحصیل اسٹوڈنٹس خدمتِ دین کے کسی اہم اور بڑے عہدے سے بھی محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان میں ایسی صلاحیت بھی پیدا نہیں ہوتی کہ وہ دین کے لیے کوئی بڑی خدمت سر انجام دے سکیں۔لہٰذا ایسے اسٹوڈنٹس کو چاہیے کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ صرف اپنی پڑھائی کو ہی اہمیت دیں اور پڑھائی میں رکاوٹ بننے والے کاموں کو چھوڑ دیں۔نیز وقت کی پابندی اور روزانہ کی حاضری کو یقینی بنائیں ان شاء اللہ اللہ پاک کی توفیق سے کامیابی پائیں گے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* معلمہ جامعۃ المدینہ گرلز یزمان بہاولپور



[1]    مستطرف،  1/40

[2]    سیر اعلام النبلاء،  7/685

[3]   حیاتِ اعلیٰ حضرت،  1/69


Share