حوصلہ شکنی
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن

سلسلہ: اخلاقیات

موضوع: حوصلہ شکنی

(نئی رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ مضمون 33ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کیا جا رہا ہے۔)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*بنتِ محمد خلیل(اول پوزیشن)

کسی کی کوششوں کو بے فائدہ قرار دینا،مسلسل نقائص تلاش کرنا اور انہیں نمایاں کرنا، کسی کی کمزوریوں پر ہنسنا یا اسے شرمندہ کرنے کے لیے مذاق اڑانا، کسی کو دوسروں سے کم ثابت کرنے کی کوشش کرنا یا اس کی کامیابیوں کو کم اہمیت دینا، کسی کو ڈرانا دھمکانا یا اسے کسی کام سے روکنا، کسی کی محنت کو نظر انداز کرنا یا اس کی کامیابیوں کو اپنی کوششوں کا نتیجہ قرار دینا، کسی کی باتوں کو سنجیدگی سے نہ لینا یا اس کی بات کاٹنا، اچھی کارکردگی پر حوصلہ افزائی نہ کرنا، کوئی کیسی ہی عمدہ کوشش کرے اس کے ہر کام میں کیڑے نکالنا  اور خود کو ماہر نقاد قرار دینا ، کسی کے منہ پر اسے یا اس کے کام کو غیر اہم قرار دینا، نیا تجربہ کرنے سے ڈرانا، ہر غلطی پر پُرانی غلطیوں کی لسٹ گنوانا، امتحان میں فیل ہونے والے کو کہنا کہ اور کرو  اِدھر اُدھر کے کاموں میں وقت ضائع، یہ تو ہونا ہی تھا!، دین کا کام کرنے والی پر تنقید کر کے اسے بد ظن کرنا وغیرہ یہ اور ان جیسی حوصلوں کو پست کرنے والی کئی ایسی مثالیں ہیں جو کسی انسان کی ترقی کی راہ میں ایسی دیوار کھڑی کر سکتی ہیں کہ جس کو ڈھانے میں شاید اس کی پوری زندگی لگ جائے۔

یاد رکھیے! بسا اوقات ہماری زبان سے نکلنے والا جملہ بظاہر بہت حقیر معلوم ہوتا ہے لیکن کسی کے دل پر بڑے گہرے اثرات چھوڑ جاتا ہے جو شاید کسی کو ترقی کرنے سے روک دے، کسی کو دین کا کام کرنے سے روک دے یا شاید کسی کو نیکی کی راہ پر چلنے سے روک دے۔ حوصلہ شکنی پر مبنی باتوں کے منفی اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں اور اس کے نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں:

* حوصلہ شکنی سے رشتے کمزور ہوتے ہیں اور لوگ آپ سے دوری اختیار کر سکتے ہیں۔* جب آپ کسی کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں تو آپ ان کی خود اعتمادی کو کمزور کرتی ہیں۔* حوصلہ شکنی ایک منفی ماحول پیدا کرتی ہے جو نہ صرف آپ کے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔* حوصلہ شکنی سے ڈپریشن،بے چینی اور ذہنی صحت کے دیگر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔* حوصلہ شکنی کرنے والے لوگوں کو دوسروں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔*حوصلہ شکنی کرنے والے لوگ اکثر خود کو دوسروں سے برتر سمجھتے ہیں، جو کہ ایک غیر صحت مند رویہ ہے۔* حوصلہ شکنی کا کام کی کارکردگی پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ * حوصلہ شکنی کرنے والے لوگوں کو اکثر سماج میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔

ان تمام خرابیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں غور کرنا چاہئے کہ آج تک ہماری وجہ سے کتنے لوگوں کی حوصلہ شکنی ہو چکی ہے بلکہ بعضوں کی تو دل آزاری بھی ہوئی ہوگی، لہٰذا آج ہی سے اپنا حوصلہ شکن رویّہ تبدیل کرلیجئے ، جن کا دل دُکھایا ان سے معافی مانگ لیجئے۔ بالخصوص وہ حضرات جن کے ماتحت کچھ نہ کچھ لوگ ہوتے ہیں جیسے ماں باپ،استاذ،مرشِد، نگران، سپر وائزر، منیجر، باس، پرنسپل انہیں خوب احتیاط کرنی چاہئے کہ ان کی بات زیادہ اثر کرتی ہے، لہٰذا  کوئی بھی معلمہ کبھی بھی کسی طالبہ علم سے یہ نہ کہے کہ آپ نہیں پڑھ سکتیں! پھر وہ واقعی ہی نہیں پڑھ سکے گی کیونکہ وہ سوچے گی کہ جب مجھے پڑھانے والی معلمہ نے ہی یہ کہہ دیا ہے تو یقیناً میں کبھی نہیں پڑھ سکتی۔

دوسروں کی حوصلہ شکنی کرنے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کرنا بہتر ہے۔ حوصلہ افزائی سے نہ صرف دوسروں کو فائدہ ہوتا ہے بلکہ آپ خود بھی خوش رہتی ہیں۔ حوصلہ افزائی ایک ایسی طاقتور چیز ہے جو نہ صرف افراد بلکہ پورے معاشرے کو بہتر بنا سکتی ہے۔ حوصلہ افزائی سے افراد کی خود اعتمادی بڑھتی ہے، وہ نئے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوتے اور اپنی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے استعمال کر پاتے ہیں۔یاد رکھیے! حوصلہ شکنی ایک ایسا زہر ہے جو انسان کی روح کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ ہر ناکامی ایک نیا سبق ہوتی ہے، مگر حوصلہ شکنی ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ جہاں سے حوصلہ افزائی کی امید ہو وہیں سے حوصلہ شکنی ہو جائے تو خود کو سنبھالنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے، اس لئے اگر اس شعر کے مِصداق بن جائیں گی تو ایزی رہیں گی:

نہ ستائش کی تمنا نہ مجھے خطرۂ ذم

نہ کسی واہ کی خواہش نہ کسی آہ کا غم

اب رہا یہ سوال کہ جس کی حوصلہ شکنی کی گئی وہ کیا کرے؟ اسے چاہیے کہ اپنے آپ پر یقین رکھے، کیونکہ حوصلہ شکنی کے تیر آپ کو نشانہ نہیں بنا سکتے۔ اگرچہ کامیابی کا راستہ ہمیشہ ہموار نہیں ہوتا، لیکن حوصلہ شکنی اس راستے کو بند نہیں کر سکتی۔ لہٰذا دوسروں کی باتوں سے نہ ڈرئیے اور اپنی صلاحیتوں پر بھروسا رکھئے، یونہی اپنا مزاج دریا کی طرح بنا لیجئے جو رُکتا نہیں ہے بلکہ پتھروں اور چٹانوں کے درمیان سے راستہ بنا کر چلتا رہتا ہے۔یاد رکھیے! آپ پہلی اور آخری نہیں ہیں جس کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے،حوصلہ شکنی کے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ہمارے آقا   صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی کفار کی طرف سے کیسی کیسی حوصلہ شکنی کی گئی! معاذ اللہ مجنون کہہ کر پکارا گیا، یہی نہیں بلکہ بعض رشتہ دار مخالفت پر اتر آئے جن میں ابولہب جو آپ کا چچا تھا پیش پیش تھا، تین سال تک آپ کا اور خاندان والوں کا سوشل بائیکاٹ کیا گیا اس دوران آپ شعبِ ابی طالب نام کے علاقے میں محصور رہے، سجدے کی حالت میں اونٹنی کی بچہ دانی مبارک کمر پر رکھ دی گئی، طائف کے سفر میں نادانوں نے پتھر برسائے،مشرکینِ مکہ کے نامناسب سلوک کی وجہ سے آپ کو اپنا شہرِ میلاد مکے چھوڑ کر مدینہ طیبہ جانا پڑا، آپ کو اتنا ستایا گیا کہ فرمایا: اللہ کی راہ میں، میں سب سے زیادہ ستایا گیا ہوں۔ ([1])لیکن آپ نے اس ہمت اور صبر سے حالات کا مقابلہ کیا کہ عقلیں حیران رہ جاتی ہیں۔

پھر صحابۂ کرام کو اسلام قبول کرنے پر حوصلہ شکن رویوں کا سامنا کرنا پڑا، کسی کی ماں نے بات چیت چھوڑ دی، تو کسی کو باپ نے ظلم کا نشانہ بنایا، کسی کو تپتی ریت پر لٹا کر سینے پر وزن رکھ دیا جاتا اور مطالبہ کیا جاتا اسلام چھوڑ دو لیکن راہِ حق پر چلنے والوں کے قدم ذرا بھی نہیں ڈگمگائے۔

یہ مثالیں ہمیں حوصلہ شکن رویوں کو نظر انداز کرنے کا حوصلہ دیتی ہیں، بعض لوگ خود پر ہونے والی ہر تنقید کو حوصلہ شکنی سمجھتے ہیں، حالانکہ ایسا نہیں، کیونکہ تعمیری تنقید حوصلہ شکنی نہیں ہوتی، بلکہ اس سے خود کو بہتر کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تنقید کرنے والا اگر بچّہ بھی ہو تو غور ضرور کیجئے، شاید وہ درست کہہ رہا ہو۔ اللہ پاک ہمیں دوسروں کی حوصلہ شکنی کرنے سے محفوظ فرمائے۔ اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* جامعۃ المدینہ گرلز فیضانِ اُمِّ عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ



[1] ترمذی، 4/213، حدیث: 2480


Share