سلسلہ:نئی لکھاری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اول پوزیشن: اولاد کو سدھارنے کے طریقے
*بنتِ فلک شیر عطاریہ
بچے بہت بگڑ گئے ہیں ان کو کیسے سدھارا جائے ؟یہ آج کا ایک سوشل سوال بن چکا ہے۔ ذیل میں بچوں کو سدھارنے کے چند ایسے طریقے ذکر کئے جا رہے ہیں کہ اگر ان پر عمل کیا جائے تو ان شاء اللہ بہت فائدہ ہو گا۔
وہ طریقے یہ ہیں:
نفسیات کو سمجھنا
(Understanding Psychology)
اولاً تو بہترین تربیت کے لیے بچے کی نفسیات کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ کبھی کبھار بہت زیادہ پیار بچے کو بگاڑ دیتا ہے، توکبھی ہر وقت کی ڈانٹ اور سختی بچے کو ضدی بنا دیتی ہے، لہٰذا پیار اور ڈانٹ میں میانہ روی اختیار کی جائے اور بچے کی کیفیت کے مطابق اس سے معاملہ برتا جائے۔
نعم البدل فراہم کرنا
(Providing Substitute)
یہ ایک فطری چیز ہے کہ ہر انسان نعم البدل چاہتا ہے۔ اگر آپ بچے کو بری عادات Habits Bad سے بچانا چاہتی ہیں تو اس کے بدلے اس کو اچھی عادات Habits Good بھی دیں۔ کیونکہ بچے کو تو مصروفیت چاہیے؛اگر آپ اچھی مصروفیت نہیں دیں گی تو وہ بری مصروفیات اختیار کرے گا۔
بچپن سے بچوں کو آئیڈل کا ذہن دینا
(Instilling an ideal personality mindset in children from childhood)
بچپن سے ہی بچے کو آئیڈیل دیجئے کہ آپ نے فلاں کی طرح بننا ہے۔ آئیڈیل کوئی بڑی شخصیت ہو، گھر یا پڑوس میں رہنے والے اس کی عمر کے بچے نہ ہوں۔ عموماً ہمارے معاشرے میں بچوں کو بہن، بھائیوں یا کزنز کی مثالیں دی جاتی ہیں کہ دیکھو! وہ کتنا اچھا بچہ ہے!
یاد رہے! اس سے نتیجہ حسد کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ بچوں کے سامنے کسی بڑی شخصیت کی مثالیں پیش کیجئے جیسے صحابہ کرام علیہمُ الرّضوان، اولیائے عظام رحمۃ اللہِ علیہم اور پھر ان کو ملنے والے انعامات بھی بتائیے کہ اس طرح زیادہ ترغیب حاصل ہو گی۔ پھر اگر بچہ کوئی ایک عمل بھی ویسا کرتا ہے تو اس پر اس کو خوب داد پیش کیجئےتاکہ وہ اس پر استقامت اختیار کرے۔
حوصلہ افزائی کرنا
(To encourage)
بچہ جو بھی اچھا کام کرے اس پر اس کی خوب حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ اس کے اندر مزید جذبہ پیدا ہو، اگر آپ اس کی محنت کے مطابق اس کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گی تو اس سے بچہ بھلائی کے کاموں سے دور ہو جائے گا۔ چنانچہ وہ کہے گا کہ میں یہ کام کروں یا نہ کروں برابر ہی ہے، اس سے بہتر ہے کہ خود کو تکلیف میں نہ ڈالوں!یوں وہ بری عادات کی طرف راغب ہو جائے گا۔
عزتِ نفس کا خیال رکھنا
(Respecting their self-esteem)
کوشش کیجئے کہ کبھی بھی ایک بچے کی دوسرے بچے کے سامنے بے عزتی نہ کی جائے کہ اس سے اس کی عزتِ نفس مجروح ہو گی اور وہ مزید ضدی ہو جائے گا۔
عملی طور پر سمجھانا
(To explain practically)
یہ ایسا عمل ہے جس کا ہمارے معاشرے میں بہت فقدان ہے مثلاً: اگر آپ بچے سے کہتی ہیں کہ نماز پڑھو! اور خود نماز نہیں پڑھتیں تو کبھی بھی بچہ نمازی نہیں بن سکتا۔
یاد رکھیے! بچے وہ نہیں کرتے جو ان سے کہا جاتا ہے بلکہ وہ کرتے ہیں جو وہ اپنے ماحول میں دیکھتے ہیں، لہٰذا جو اوصاف آپ اپنی اولاد میں دیکھنا چاہتی ہیں تو پہلے انہیں اپنے اندر پیدا کیجیے۔اس کے علاوہ بچوں کی صحبت پر خاص نظر رکھئے کہ صحبت بہت گہرا اثر رکھتی ہے۔
بچوں کو اچھی صحبت ملے، اس کے لئے انہیں دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ کیجیے ان شاء اللہ مثبت نتائج دیکھیں گی۔نیز انہیں حلال کھلائیے کہ حرام غذا جسم و روح پر بہت برا اثر ڈالتی ہے جس کی وجہ سےنفس سے نیکی و بھلائی کا جذبہ نکل جاتا ہے۔ اللہ کریم عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*(معلمہ فیضان اسلامک اسکول سسٹم، جوہر آباد ضلع خوشاب)
Comments